حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کی یقین دہانی کرا دی

حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کی یقین دہانی کرا دی

یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد) حکومت پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان جاری بجٹ مذاکرات میں توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور آئندہ مالی سال کے اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا ہے کہ پروٹیکٹڈ صارفین (کم استعمال کرنے والے گھریلو صارفین) کے علاوہ دیگر تمام صارفین کے لیے بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ نیپرا کی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس اور ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹس بروقت نافذ رہیں گے۔

حکومت نے عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار رکھی ہے۔ پیٹرول، بجلی اور گیس ٹیرف میں باقاعدہ ردوبدل کے ذریعے لاگت کی مکمل وصولی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ کمزور اور کم آمدن والے طبقے کو ہدفی سبسڈی جاری رکھی جائے گی۔

توانائی شعبے میں بڑی اصلاحات

ذرائع کے مطابق حکومت آئی پی پیز (Independent Power Producers) کے جرمانوں اور بقایا جات کے تصفیے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔ پاکستان میں مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔ توانائی اصلاحات سے بجلی نظام کی کارکردگی بہتر ہونے اور نقصانات میں کمی کی توقع ہے۔

حکومت نے آڈٹ شدہ گیس گردشی قرضے کا جامع ڈیٹا تیار کر لیا ہے اور بجلی کی طرح گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کو سہ ماہی بنیادوں پر عوام کے سامنے لانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مالی سال 2027 کے لیے گیس گردشی قرضے کے انتظام کا منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

بجلی ٹیرف اور سبسڈی کے نئے اہداف

بریفنگ میں بتایا گیا کہ جنوری 2027 سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ مکمل طور پر نافذ رہے گا۔ مالی سال 2027 کے لیے بجلی سبسڈی کو زیادہ سے زیادہ 830 ارب روپے (جی ڈی پی کا 0.6 فیصد) تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ سبسڈی ڈسکوز، کے الیکٹرک، فاٹا کے بقایا جات، زرعی ٹیوب ویلز اور سرکلر ڈیٹ کی ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوگی۔

آئی پی پیز کے بقایا جات اور نجکاری کے منصوبے

ذرائع کے مطابق آئی پی پیز کے ساتھ بقایا جات اور جرمانوں سے متعلق معاہدے جون 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ مالی سال 2027 میں گردشی قرضے میں اضافے کو 300 ارب روپے تک محدود رکھا جائے گا، اور حکومت نے مالی سال 2031 تک بجلی شعبے کا گردشی قرض صفر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

نیز آئیسکو (IESCO)، گیپکو (GEPCO) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کا عمل 2027 کے آغاز تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں