تونسہ میں HIV پھیلاؤ کا انکشاف، سینٹر عون عباس بپی نے میڈیکل ایمرجنسی کا مطالبہ کردیا۔
یوتھ ویژن نیوز : (خصؤصی رپورٹ برائے مبشر بلوچ سے) پاکستان تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے صدر سینیٹرعون عباس بپی نے ملتان پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بی بی سی کی ایک ڈاکومنٹری میں تونسہ شریف کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں استعمال شدہ سرنجز کے باعث بچوں میں HIV پھیلنے کا انکشاف ہوا ہے، ان کے مطابق متاثرہ بچوں کے والدین اس بیماری سے محفوظ تھے جس سے معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے اور طبی نظام پر بڑے سوالات اٹھتے ہیں۔
استعمال شدہ سرنجز اور ٹیکوں کی قلت کا معاملہ
پریس کانفرنس کے دوران بتایا گیا کہ ایک ہی سرنج کو متعدد بچوں کو لگایا گیا اور اس کی وجہ ٹیکوں کی قلت بتائی گئی، یہ صورتحال نہ صرف طبی غفلت بلکہ ایک بڑے ہیلتھ کرائسز کی نشاندہی کرتی ہے، ماہرین کے مطابق ایسی غفلت جان لیوا بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہے اور فوری تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے۔
پنجاب کے ہسپتالوں میں PCR لیبز کا مطالبہ
سینیٹر عون عباس بپی نے مطالبہ کیا کہ پورے پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب کے تمام تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کے پیڈیاٹرک وارڈز میں فوری طور پر PCR لیبز قائم کی جائیں تاکہ بچوں کی بروقت اسکریننگ ممکن ہو سکے، ان کا کہنا تھا کہ اگر تونسہ شریف میں یہ مسئلہ سامنے آیا ہے تو دیگر اضلاع بھی خطرے میں ہو سکتے ہیں۔
حکام کی معطلی اور میڈیکل ایمرجنسی کا مطالبہ
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ صوبائی وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کو فوری طور پر معطل کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پورے صوبے میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کی جائے تاکہ اس بحران کو فوری طور پر کنٹرول کیا جا سکے، ان کے مطابق ڈیڑھ سال بعد بھی نئے کیسز سامنے آنا انتہائی تشویشناک ہے۔
عوامی صحت کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت
ماہرین صحت کے مطابق ایسی صورتحال میں فوری اسکریننگ، سخت نگرانی اور طبی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہوتی ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے، جبکہ اس معاملے نے عوامی صحت کے نظام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔