وزیراعظم کی ڈیڈ لائن توسیع اپیل پر امریکا اور ایران کا مثبت ردعمل
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کیلئے دی گئی ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع اور آبنائے ہرمز کھولنے کی اپیل پر امریکا اور ایران دونوں کی جانب سے ابتدائی طور پر مثبت اور محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کو پاکستانی تجویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے جبکہ تہران بھی جنگ بندی کی اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا ردعمل
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس تجویز سے باخبر ہیں اور جلد اس پر ردعمل دیں گے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ٹرمپ کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی تھے اور سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی تھی۔
ایران بھی جنگ بندی تجویز پر غور میں
دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا ہے کہ تہران پاکستان کی دو ہفتوں کی جنگ بندی تجویز پر مثبت غور کر رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا جائے گا تاہم سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
پاکستانی سفارت کاری کو اہم پیش رفت
رپورٹس کے مطابق پاکستان اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں ٹرمپ سے دو ہفتے مہلت اور ایران سے اسی مدت کیلئے آبنائے ہرمز کھولنے کی درخواست کی تھی تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور مذاکرات کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچایا جا سکے۔
خطے میں امن کیلئے اہم موڑ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران دونوں نے اس تجویز کو قبول کر لیا تو یہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے دوران ایک اہم سفارتی بریک تھرو ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً توانائی سپلائی، عالمی منڈیوں اور خطے کے استحکام پر اس کے فوری مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔