لاہور ہائیکورٹ میں وکلا کے تحفظ کیلئے بڑا آئینی مقدمہ دائر

لاہور ہائی کورٹ کی فائل فوٹؤء

دو سال بعد بھی پروٹیکشن ایکٹ نافذ نہ ہونے پر عدالت سے فوری مداخلت کی استدعا

یوتھ ویژن نیوز : (ایڈوکیٹ واصب ابراہیم سے) لاہور ہائیکورٹ میں وکلا کے تحفظ، عدالتی آزادی اور رول آف لا سے متعلق ایک اہم آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وکلاء ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2023 دو سال گزرنے کے باوجود عملی طور پر نافذ نہیں کیا جا سکا۔ درخواست گزار وحید شہزاد بٹ ایڈووکیٹ نے محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو فریق بنایا ہے۔

خصوصی عدالتیں اور رولز تاحال غیرفعال

درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت وکلا پر حملوں کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا، مگر اس کے باوجود خصوصی عدالتیں قائم نہیں ہو سکیں۔ مزید یہ کہ سیکشن 14 کے تحت لازمی رولز بھی مرتب نہیں کیے گئے جس کے باعث پورا تحفظی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

صحت، مالی اور شہداء پیکیج صرف کاغذی دعوے

درخواست گزار کے مطابق وکلا کیلئے صحت سہولیات، مالیاتی اداروں میں قانونی مراعات، لازمی لیگل ایڈوائزرز کی تعیناتی اور شہداء پیکیج جیسے اقدامات صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔ اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی سمیت متعلقہ اداروں کی خاموشی کو بھی درخواست میں چیلنج کیا گیا ہے۔

آئینی خلاف ورزی اور عدالتی مداخلت کی استدعا

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ یہ صورتحال آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10 اے، 14 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ خصوصی عدالتوں کے قیام، وفاقی و صوبائی مانیٹرنگ کمیٹیوں کی تشکیل اور غفلت کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔

صرف وکلا نہیں، پورے نظامِ انصاف کا مقدمہ

درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ کیس محض وکلا کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف، عدالتی خودمختاری اور عوام کے حقِ انصاف سے جڑا معاملہ ہے، اس لیے فوری عدالتی مداخلت وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں