حکومت نے پیٹرول 137 اور ڈیزل 185 روپے فی لیٹر بڑھا دیا، سبسڈی ریلیف پیکج کا اعلان

"پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ"

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک)اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 24 پیسے کا اضافہ کر کے 458 روپے 41 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 184 روپے 49 پیسے کا اضافہ کر کے 520 روپے 35 پیسے تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ عالمی توانائی مارکیٹ میں موجود اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ناگزیر تھا۔

حکومت کا سبسڈی اور ریلیف پیکج

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سبسڈی پیکج بھی جاری کیا ہے۔ موٹرسائیکل سواروں کے لیے تین ماہ کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت ماہانہ 20 لیٹر تک ہر لیٹر پر 100 روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔

کسانوں اور زرعی شعبے کے لیے ریلیف

وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ زرعی پیداوار اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ محدود کیا جا سکے۔ اس اقدام سے کسانوں کی مالی مشکلات کم ہوں گی اور زرعی شعبہ مستحکم رہے گا۔

ٹرانسپورٹرز اور ریلوے صارفین کے لیے سبسڈی

وفاقی حکومت ٹرک اور گڈز ٹرانسپورٹرز کو ماہانہ 70 ہزار روپے اور مال بردار گاڑیوں کو 80 ہزار روپے کی سبسڈی دے گی۔ پاکستان ریلوے کے لیے بھی سبسڈی پیکج تیار کیا گیا ہے۔ انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ شہری سطح پر سفر کے اخراجات کم ہوں۔

کفایت شعاری اور توانائی کی بچت کی اپیل

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری توانائی کے استعمال سے گریز کریں اور حکومت کی کفایت شعاری مہم میں تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ملکی وسائل کے مؤثر استعمال اور معیشت پر دباؤ کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت اور ڈالر کی قدر کے اثرات کی وجہ سے ناگزیر تھا۔ سبسڈی کے اعلان سے عوام کے لیے ریلیف بھی فراہم کیا گیا ہے، جس سے روزمرہ کے سفر اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کو محدود کیا جا سکے گا۔

یہ تاریخی اضافہ عوام کے لیے چیلنجز کے ساتھ کچھ ریلیف بھی لے کر آیا ہے۔ ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ آئندہ مہینوں میں عالمی توانائی کی قیمتوں اور سبسڈی کے اثرات ملک کی معیشت پر نمایاں ہوں گے۔ حکومت کا مقصد عوام کو توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے محفوظ رکھنا اور معیشت پر دباؤ کم کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں