ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پٹرول بم، قیمت 458 روپے، مگر بائیک سواروں کیلئے ریلیف بھی اعلان
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کرتے ہوئے پٹرول 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دیا، جبکہ پٹرول پر عائد پٹرولیم لیوی 161 روپے فی لیٹر تک بڑھا دی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال اور محدود مالی گنجائش کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔
اس اعلان کے ساتھ ہی موٹرسائیکل سواروں، انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ، گڈز ٹرانسپورٹ، ریلوے اور چھوٹے کسانوں کے لیے ہدفی سبسڈی پیکج بھی متعارف کرایا گیا ہے، جسے موجودہ معاشی دباؤ میں کمزور طبقات کو جزوی تحفظ دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
پٹرولیم لیوی میں ریکارڈ اضافہ، قیمت پہلی بار 400 سے اوپر
حکومتی فیصلے کے مطابق فی لیٹر پٹرول پر عائد پٹرولیم لیوی کو 50 روپے سے زائد اضافے کے بعد 161 روپے تک پہنچا دیا گیا ہے، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق قیمت میں اس اضافے کا بڑا حصہ ٹیکس اور لیوی پر مشتمل ہے، جس سے حکومتی ریونیو میں اضافہ ہوگا، تاہم اس کے ساتھ عوامی سطح پر شدید مالی دباؤ بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 3 اپریل سے نافذ ہو چکا ہے۔
موٹرسائیکل سواروں، ٹرانسپورٹ اور کسانوں کیلئے ہدفی ریلیف
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ موٹرسائیکل استعمال کرنے والوں کو ہر ماہ 20 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی، جس کا اطلاق ابتدائی طور پر تین ماہ کیلئے ہوگا۔ اسی طرح انٹرسٹی مسافر گاڑیوں اور مال بردار گاڑیوں کیلئے 100 روپے فی لیٹر ڈیزل سبسڈی، ٹرکوں کیلئے 70 ہزار روپے ماہانہ، بڑی مال بردار گاڑیوں کیلئے 80 ہزار روپے ماہانہ اور مسافر بسوں کیلئے ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی مقرر کی گئی ہے۔ چھوٹے کسانوں کیلئے فصل کی کٹائی کے دوران 1500 روپے ایک بار خصوصی سبسڈی بھی رکھی گئی ہے۔
عالمی بحران اور آبنائے ہرمز کا دباؤ
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت 250 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور آبنائے ہرمز کے خطرات نے سپلائی چین پر اضافی دباؤ ڈالا ہے۔ حکومت کے مطابق انہی عوامل کے باعث بلینکٹ سبسڈی جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، اس لیے ہدفی سبسڈی ماڈل اختیار کیا گیا تاکہ حقیقی مستحق طبقات کو ریلیف دیا جا سکے۔
مہنگائی، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اخراجات پر اثرات
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے سے ٹرانسپورٹ کرایوں، اشیائے خورونوش، زرعی لاگت اور بجلی پیداوار کے اخراجات میں نئی لہر آسکتی ہے۔ خاص طور پر ڈیزل 520 روپے سے اوپر جانے سے مہنگائی کے ثانوی اثرات پورے ملک میں محسوس کیے جا سکتے ہیں، اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور ریلوے سبسڈی سے عام شہریوں کو جزوی تحفظ ملے گا۔
مارکیٹ اوقات اور توانائی بچت پلان
حکومت نے توانائی بچت کے لیے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ مارکیٹیں دن کے اوقات میں کھولی جائیں گی تاکہ بجلی اور ایندھن کی کھپت کم کی جا سکے۔ صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد مارکیٹ اوقات کار کا حتمی شیڈول آئندہ ہفتے جاری کیے جانے کا امکان ہے۔