پاسداران انقلاب نے 18 امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی

ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں، ڈیٹا سینٹرز اور علاقائی دفاتر سے متعلق سکیورٹی خدشات کی نمائندہ تصویر۔

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) ایران کی پاسداران انقلاب نے ایک نئے بیان میں 18 امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ان سے منسلک تنصیبات کو ممکنہ ہدف قرار دیتے ہوئے خطے میں کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اس بیان میں امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ اداروں پر سنگین الزامات عائد کیے گئے۔

بیان میں کمپنیوں کے دفاتر کو جائز ہدف قرار دیا گیا

پاسداران انقلاب کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ امریکی آئی سی ٹی اور اے آئی کمپنیاں مبینہ طور پر نگرانی، انٹیلی جنس اور ہدفی کارروائیوں میں معاونت فراہم کرتی رہی ہیں، اسی بنیاد پر ان کے دفاتر اور تنصیبات کو “جائز ہدف” سمجھا جائے گا۔ متعدد عالمی میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ اس فہرست میں بڑی امریکی ٹیک کمپنیوں کے نام بھی شامل ہیں، جس کے بعد عالمی کاروباری حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

خطے میں کاروباری اور سکیورٹی خدشات میں اضافہ

اس اعلان کے بعد مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے دفاتر، ڈیٹا سینٹرز اور علاقائی آپریشنز کے حوالے سے سکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس خبر کے بعد عالمی ٹیک اور دفاعی کمپنیوں کے شیئرز میں اتار چڑھاؤ بھی سامنے آیا، جو سرمایہ کاروں کی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔

وائٹ ہاؤس اور امریکی ردعمل

رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات، کمپنیوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ فوجی اور سفارتی سطح پر صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے اس پیشرفت کو خطے میں کشیدگی بڑھانے والا اقدام قرار دیا ہے۔

عالمی معیشت اور اے آئی انڈسٹری پر ممکنہ اثرات

ماہرین کے مطابق اگر یہ دھمکیاں عملی خطرات میں تبدیل ہوئیں تو اس کے اثرات صرف علاقائی سلامتی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ سروسز، چِپ سپلائی اور عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ کمپنیاں جو مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا، دفاعی ٹیکنالوجی اور انٹرپرائز نیٹ ورکس چلا رہی ہیں، ان کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

سفارتی حل کی ضرورت مزید بڑھ گئی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تازہ پیشرفت نے واضح کر دیا ہے کہ ایران امریکا کشیدگی اب روایتی عسکری محاذ سے نکل کر ٹیکنالوجی اور معاشی انفراسٹرکچر تک پھیل رہی ہے، جس سے سفارتی کوششوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں