شام ایران جنگ میں غیر جانبدار رہنے پر قائم، احمد الشرع نے تعمیرِ نو کو ترجیح قرار دے دیا
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) شام کے صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ جاری جنگ میں غیر جانبدار رہنے کے لیے پرعزم ہے اور اس تنازع میں اسی صورت شامل ہوگا جب شام کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ لندن میں ایک تحقیقی ادارے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ دمشق موجودہ علاقائی کشیدگی سے خود کو دور رکھنا چاہتا ہے تاکہ ملک کو ایک نئی تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے۔
ایران سے تعلقات پر واضح مؤقف
صدر احمد الشرع نے کہا کہ شام کو تہران میں ایران سے کوئی مسئلہ نہیں، تاہم دمشق کے داخلی معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ایران نے سابق اسد حکومت کی حمایت کے ذریعے شامی عوام کی بے دخلی اور بحران میں کردار ادا کیا، جس کے اثرات آج بھی شام کی داخلی صورتحال پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
جنگ کے بعد سفارتی رابطے منقطع
انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگی کشیدگی شروع ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کا سفارتی یا سیاسی رابطہ نہیں ہوا، جبکہ رسمی سفارتی تعلقات بھی موجود نہیں ہیں۔ یہ بیان خطے میں جاری بدلتی ہوئی سفارتی صف بندی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
بات چیت کو ترجیح، کشیدگی سے گریز
شامی صدر نے زور دیا کہ شام ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے بجائے بات چیت اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام خود کو اس تنازع میں گھسیٹے جانے سے بچانا چاہتا ہے کیونکہ خطے کی موجودہ غیر یقینی صورتحال کسی بھی وقت نئے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔
تعمیرِ نو اور بے گھر شہریوں کی واپسی اولین ترجیح
صدر احمد الشرع نے خبردار کیا کہ شام مزید جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ملک کی تعمیرِ نو، اقتصادی ترقی اور لاکھوں بے گھر شہریوں کی باعزت واپسی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شام اپنی خارجہ پالیسی کو اب داخلی استحکام اور بحالی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کر رہا ہے۔
خطے میں سفارتی توازن کی نئی کوشش
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شام کا یہ محتاط مؤقف مشرق وسطیٰ میں سفارتی توازن کی ایک نئی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں کئی ممالک براہِ راست عسکری صف بندی کے بجائے داخلی استحکام اور معاشی بحالی کو ترجیح دے رہے ہیں۔