پاکستان امریکا، ایران مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیارہے: اسحاق ڈار

اسلام آباد میں اسحاق ڈار اور چار ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شریک

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) پاکستان نے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دونوں ممالک نے اس معاملے میں پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اسلام آباد آئندہ دنوں میں فیصلہ کن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

اسلام آباد میں امریکا، ایران مذاکرات کا امکان

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ پاکستان میں موجود ہیں، جہاں خطے کی بگڑتی صورتحال، جنگ بندی اور سفارتی حل کے امکانات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ان کے مطابق یہ مشاورتی سلسلہ 19 مارچ کے پہلے اجلاس کا تسلسل ہے، جس کا مقصد خطے میں فوری امن کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اجلاس میں شریک تمام ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جاری جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں اور اس کے اثرات پورے خطے پر جانی و مالی نقصان کی صورت میں مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم دنیا کے درمیان اتحاد اور مربوط سفارت کاری اس نازک وقت کی بنیادی ضرورت ہے۔

اسحاق ڈار کا بڑا سفارتی بیان

اسحاق ڈار کے مطابق انہوں نے شریک وزرائے خارجہ کو امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا، جس کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر نے مکمل حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام شریک ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عسکری کشیدگی روکنے، اعتماد سازی اور سودمند مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ پیغامات کے تبادلے میں سہولت کاری کر رہا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے ایک 15 نکاتی تجویز تہران تک پہنچائی جا چکی ہے، جس پر ایرانی قیادت غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ سفارتی چینل خطے میں تناؤ کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان اپنے علاقائی اور عالمی شراکت داروں، بشمول چین اور اقوام متحدہ، کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازع کے مستقل حل کا واحد راستہ ہیں، اور پاکستان پوری دیانت داری اور عزم کے ساتھ خطے میں امن، استحکام اور جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اگر یہ مذاکرات اسلام آباد میں ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں