امریکا بھر میں جنگ کے خلاف بڑا احتجاج، ٹرمپ پالیسیوں پر 70 لاکھ لوگ سڑکوں پر نکل آئی

امریکا میں عوام جنگ کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) امریکا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے، جہاں مختلف ریاستوں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور حکومتی اقدامات کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ مظاہروں کا سلسلہ “نو کنگز” کے عنوان سے جاری رہا، جس میں عوام نے جنگ کے خاتمے اور خارجہ پالیسیوں میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں میں 70 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی، جبکہ منتظمین کا کہنا ہے کہ ملک کی تمام 50 ریاستوں میں تین ہزار سے زائد مقامات پر ریلیاں نکالی گئیں۔ مظاہرین نے “اینڈ دا وار” اور “نو کنگز” جیسے نعرے لگائے اور جنگی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی۔

لاکھوں افراد کی شرکت اور ملک گیر احتجاج

ریاست مینیسوٹا میں ہونے والی ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے متعلق جنگی صورتحال پر امریکی عوام کو مکمل حقائق نہیں بتائے جا رہے اور اس تنازع کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔

برنی سینڈرز کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران جنگوں سے دور رہنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم موجودہ پالیسی اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی جنگ کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے، اور اس کے بغیر کیے گئے اقدامات آئینی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

انہوں نے اس تنازع کے انسانی پہلو پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جنگ کے باعث نہ صرف فوجی جانی نقصان ہو رہا ہے بلکہ عام شہری بھی متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ خطے کے دیگر ممالک میں بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔

مزید مظاہروں کا امکان اور آئندہ حکمت عملی

مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی، جبکہ روسی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں بھی ایران جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

رپورٹس کے مطابق احتجاج کا یہ سلسلہ آئندہ دنوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے، اور مزید ہزاروں مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، منتظمین کے مطابق یہ احتجاجی لہر امریکی تاریخ کے بڑے عوامی مظاہروں میں شمار ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں