ایران جنگ ہفتوں میں ختم ہونے کی توقع، زمینی فوج کی ضرورت نہیں: مارکو روبیو

مارکو روبیو جی7 اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر بیان دیتے ہوئے منظر

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے مقاصد بغیر بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت کے حاصل کر سکتا ہے، تاہم خطے میں محدود تعداد میں فوجی دستوں کی تعیناتی کی جا رہی ہے تاکہ حالات کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔

جنگ کے دورانیے سے متعلق اہم بیان

فرانس میں جی7 اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ جاری فوجی کارروائی طویل نہیں ہوگی اور توقع ہے کہ یہ مہینوں کے بجائے چند ہفتوں میں مکمل ہو جائے گی، جسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

خطے میں فوجی تعیناتی اور خدشات

رپورٹس کے مطابق امریکا نے خطے میں ہزاروں میرینز اور ایئر بورن فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ بنایا ہے، جن میں سے کچھ دستے ایمفیبیئس اسالٹ جہازوں کے ذریعے پہنچیں گے، ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ فضائی کشیدگی کسی بڑے زمینی تنازع میں تبدیل نہ ہو جائے۔

ایران سے سفارتی رابطے اور تجاویز

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کی جانب سے بھیجی گئی 15 نکاتی تجویز کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان تیسرے ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، جس سے سفارتی عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

ایرانی مؤقف اور اختلافات

دوسری جانب ایران نے امریکی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے یکطرفہ قرار دیا ہے، تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سفارت کاری کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور رابطے مختلف ذرائع سے جاری ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے، جہاں ایک جانب فوجی دباؤ بڑھ رہا ہے تو دوسری جانب سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، اور آئندہ چند ہفتے اس تنازع کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں