پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ متوقع

پاکستان میں پٹرول پمپس پر لائنیں اور قیمتیں

یوتھ ویژن نیوز : (محمد عباس سے) ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کا اثر پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بھی پڑے گا، جس کے نتیجے میں صارفین کو مہنگائی کے اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پٹرول 55 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 75 روپے فی لٹر تک مہنگا ہونے کا امکان ہے، اور اوگرا دو روز بعد اپنی ورکنگ پٹرولیم ڈویژن کو سمری بھیجے گا تاکہ قیمتوں میں اضافے کی حتمی منظوری لی جا سکے۔

حکومت کی پالیسی اور سبسڈی

وفاقی وزیر مصدق ملک نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہیں بڑھائیں، اور فی لیٹر پٹرول پر 127 روپے اور ڈیزل پر 200 روپے سے زائد سبسڈی جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک کے بجائے دو ہفتوں میں مرحلہ وار اضافہ کر سکتی ہے، اور سبسڈی کے ذریعے قیمتیں موجودہ سطح پر بھی برقرار رکھی جا سکتی ہیں۔

تاریخی پس منظر اور پچھلا اضافہ

واضح رہے کہ ایران جنگ کے بعد حکومت نے 7 مارچ کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ اس کے بعد پٹرول کی فی لیٹر قیمت 321.17 روپے اور ڈیزل کی 335.86 روپے تک پہنچ گئی۔

اوگرا نے گزشتہ ہفتے بھی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھجوائی تھی، تاہم حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھی جبکہ مٹی کا تیل 70.73 روپے فی لیٹر مہنگا اور ہائی اوکٹین پر 200 روپے فی لیٹر لیوی کا اضافہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں