ٹرمپ کے اعلان سے قبل مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی، بڑے سودوں پر سوالات اٹھ گئے
یوتھ ویژن نیوز : ( نیویارک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے اعلان سے چند منٹ قبل عالمی مالیاتی منڈیوں میں اچانک تیزی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد اس غیر معمولی سرگرمی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، عالمی خبر رساں ادارے سکائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اعلان سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر خریداری کی گئی جس سے بعض سرمایہ کاروں کو بھاری منافع حاصل ہوا۔
مارکیٹ میں اچانک تیزی اور غیر معمولی خریداری
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ سے تقریباً پانچ منٹ پہلے ہی مارکیٹ میں واضح تیزی دیکھی گئی، اس دوران آئل اور شیئرز کی بڑے پیمانے پر خریداری کی گئی، ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی پیشگی سرگرمی عام مارکیٹ ٹرینڈ سے ہٹ کر ہے جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی۔
اعلان سے قبل بڑے مالی سودے
سکائی نیوز کے مطابق ٹرمپ کے اعلان سے قبل حالیہ دنوں کے سب سے بڑے مالی سودے کیے گئے، خاص طور پر ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں ایک ہی وقت میں تقریباً 1.5 بلین ڈالر کا بڑا سودا ہوا جبکہ 192 ملین ڈالر مالیت کے لائٹ کروڈ آئل کے فیوچر کنٹریکٹس بھی خریدے گئے، ان سودوں سے متعلقہ سرمایہ کاروں نے نمایاں مالی فائدہ حاصل کیا۔
اندرونی معلومات کا شبہ یا اتفاق؟
اس صورتحال کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا کچھ مخصوص کاروباری گروپس کو پہلے سے ٹرمپ کے اعلان کا علم تھا یا یہ محض اتفاقی طور پر ہوا، ماہرین کا کہنا ہے کہ یا تو سرمایہ کار غیر معمولی طور پر خوش قسمت تھے یا پھر انہیں کسی سطح پر پیشگی معلومات حاصل تھیں، جس کی وجہ سے انہوں نے بروقت سرمایہ کاری کر کے بڑا منافع سمیٹا۔
عالمی مارکیٹ پر اثرات اور خدشات
ماہرین اقتصادیات کے مطابق اس طرح کی پیشگی مارکیٹ سرگرمیاں مالیاتی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہیں، اگر اندرونی معلومات کے استعمال کے شواہد سامنے آتے ہیں تو یہ عالمی مارکیٹ کے ضابطوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، دوسری جانب اس پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مارکیٹ کے نظام پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔