مٹی کا تیل 70 روپے مہنگا، نئی قیمت 428 روپے

پاکستان میں مٹی کے تیل کی قیمت میں 70 روپے سے زائد اضافہ، نئی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری۔

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں 70 روپے 73 پیسے فی لٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 428 روپے 74 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق قیمت میں اضافے کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس سے ملک بھر میں مٹی کا تیل استعمال کرنے والے صارفین پر براہ راست اثر پڑے گا۔

عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ

مٹی کے تیل کی قیمت میں اس نمایاں اضافے سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، خاص طور پر وہ طبقہ جو گھریلو استعمال کے لیے مٹی کے تیل پر انحصار کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے افراد کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے حالیہ خطاب میں واضح کیا تھا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرول کی قیمت میں اضافے کی تجویز مسترد کر چکی ہے، حالانکہ انہیں 50 سے 74 روپے فی لٹر تک اضافے کی سفارش دی گئی تھی۔

عالمی منڈی اور تیل کی قیمتوں کا دباؤ

وزیراعظم کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ خلیجی تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے چیلنج بن چکا ہے۔

حکومت کا مالی بوجھ برداشت کرنے کا فیصلہ

شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ حکومت عوام کو مزید مہنگائی سے بچانے کے لیے 45 ارب روپے کا اضافی بوجھ خود برداشت کرے گی۔ تاہم مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ توانائی کے شعبے میں دباؤ بدستور برقرار ہے اور حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔

مستقبل میں مزید اضافے کا امکان

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو مستقبل میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کے لیے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، جبکہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں