پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنا، سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، عمران خان کی رہائی کا مطالبہ
یوتھ ویژن نیوز : (مبشر جمیل ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز سے) اسلام آباد: پی ٹی آئی کی قیادت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر احتجاج کیا، جس میں صدر جنوبی پنجاب سینیٹر عون عباس بپی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، پارلیمنٹیرینز اور پارٹی کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔ احتجاج کا مقصد بانی چیئرمین عمران خان کے ساتھ مبینہ غیرآئینی سلوک، جیل میں طبی سہولیات کی عدم فراہمی اور حقائق چھپانے کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کی چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات تقریباً تیس منٹ تک جاری رہی۔ ملاقات میں سلمان راجا نے بانی پی ٹی آئی کی صحت، جیل میں حالات اور آئینی حقوق کے حوالے سے تحفظات پیش کیے۔ ملاقات کے بعد پی ٹی آئی نے احتجاج کو پُرامن طریقے سے ختم کر دیا، تاہم کارکنان نے عمران خان کی فوری رہائی اور ذاتی معالجین تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔
احتجاج کے دوران سپریم کورٹ کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو اڈیالہ جیل بھیجنے سے انکار کیا، جبکہ پی ٹی آئی نے نجی اسپتال کے دو ڈاکٹرز کو چیک اپ کے لیے بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ اس حوالے سے حکومت دو پرائیوٹ ڈاکٹرز کے ناموں پر غور کر رہی ہے۔
سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہر شخص کے بنیادی حقوق محفوظ ہونا ضروری ہیں، اور بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنا آئینی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی جدوجہد کے ذریعے ہی یہ نظام درست کیا جا سکتا ہے اور عوام کی آنکھیں کھلی ہیں کہ عدالتی عمل کس حد تک کمزور ہو چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی سپریم کورٹ کے باہر کہا کہ پی ٹی آئی نے کل رات اڈیالہ جیل میں دیر رات تک احتجاج کیا اور آج صبح سے سپریم کورٹ پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے طبی غفلت کی گئی اور مناسب علاج فراہم نہیں کیا جا رہا، جبکہ سیاسی ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد کی گئی۔
سلمان راجا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل سے ملاقات میں جیل اور اسپتال میں پیش آنے والے حالات کی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، جس کے بعد خاندان فیصلہ کرے گا کہ حالات تسلی بخش ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی، اور تحریک جاری رکھی جائے گی۔
مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر “آئین بچاؤ، عمران خان کو رہا کرو” جیسے نعرے درج تھے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے باہر یہ احتجاج ملک میں سیاسی کشیدگی اور عدالتی امور پر عوامی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے اور آنے والے دنوں میں ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔