چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا بڑا اعلان: دور دراز علاقوں تک انصاف کی رسائی اولین ہدف قرار
یوتھ ویژن نیوز : (ایڈوکیٹ واصب ابراہیم سے) چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ انصاف تک عام شہری کی آسان، مؤثر اور بروقت رسائی کو یقینی بنانا عدلیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے عدالتی نظام میں جامع اور پائیدار اصلاحات پر مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط اور شفاف نظامِ انصاف ہی عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو بحال اور مستحکم کر سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے یہ بات سپریم کورٹ میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مانسہرہ اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کوہاٹ کے وفود سے ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ بار ایسوسی ایشنز اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے تاکہ عدالتی نظام کو زمینی حقائق کے مطابق زیادہ مؤثر اور جوابدہ بنایا جا سکے۔
چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو انصاف کے حصول میں جن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، انہیں مدنظر رکھتے ہوئے عدالتی سہولیات کی بہتری، بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی اور فنڈز کی بروقت تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انصاف صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ اس تک رسائی کو آسان بنانا بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود ملک کے مختلف دور افتادہ علاقوں کا دورہ کیا تاکہ ایکسس ٹو جسٹس فنڈ پروگرام کے تحت فنڈز کی تقسیم میں موجود انتظامی اور رابطہ جاتی خلا کی نشاندہی کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خامیوں کو دور کرنے اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کے لیے صوبوں میں ریزیڈنٹ ایڈیشنل سیکرٹریز تعینات کیے گئے ہیں تاکہ عدالتی اصلاحات کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچ سکیں۔
چیف جسٹس کے مطابق جاری اصلاحاتی اقدامات کے تحت عدالتی عمارات کی سولرائزیشن، جدید ای لائبریریز کا قیام، خواتین کے لیے سہولت مراکز اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف وکلاء بلکہ عام سائلین کو بھی بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ عدالتوں میں آنے والے شہریوں کو باوقار اور محفوظ ماحول میسر آ سکے۔
ملاقات کے دوران ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کوہاٹ کے وفد نے نوجوان وکلاء کی پیشہ ورانہ تربیت اور استعداد کار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وفد نے اپنی بار میں ای لائبریری اور صاف پینے کے پانی کی سہولت کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا، جس پر چیف جسٹس نے بتایا کہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام کنٹینیونگ لیگل ایجوکیشن پروگرامز جاری ہیں، جن کے ذریعے نوجوان وکلاء اپنی قانونی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ان تربیتی پروگرامز کا مکمل کیلنڈر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے پلیٹ فارم پر دستیاب ہے اور وکلاء کو چاہیے کہ وہ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ عدالتی نظام میں معیار اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
اس موقع پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مانسہرہ کے وفد نے جوڈیشل کمپلیکس میں انفراسٹرکچر کی کمی اور صاف پینے کے پانی کی عدم دستیابی جیسے مسائل کی نشاندہی کی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس پر متعلقہ ریزیڈنٹ ایڈیشنل سیکرٹری کو فوری طور پر موقع کا دورہ کرنے اور مسائل کے جلد، مؤثر اور پائیدار حل کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔
آخر میں چیف جسٹس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عدلیہ شہریوں پر مرکوز، شفاف اور دیرپا نظامِ انصاف کے قیام کے لیے اصلاحاتی عمل کو پوری سنجیدگی اور رفتار کے ساتھ آگے بڑھاتی رہے گی، تاکہ ہر شہری کو بلا تفریق بروقت اور قابلِ اعتماد انصاف میسر آ سکے۔