متنازع ٹویٹس کیس کا فیصلہ، دو اہم شخصیات کو سخت سزا
یوتھ ویژن نیوز : (ایڈوکیٹ واصب ابراہیم سے)اسلام آباد کی عدالت نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس، دس سال قید کی سزا سنا دی۔
اسلام آباد: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس، دس سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالتی فیصلے کو سوشل میڈیا کے استعمال اور ریاستی سلامتی سے متعلق قوانین کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالت کا مختصر مگر فیصلہ کن حکم
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کمرہ عدالت میں مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ دونوں ملزمان کے خلاف الزامات ثابت ہوتے ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ملزمان نے سوشل میڈیا کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کی تشہیر اور ریاستی اداروں کے خلاف مواد پھیلایا، جو قانوناً جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالتی کارروائی اور ملزمان کی عدم حاضری
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے آج کی عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے اسی روز تک گواہان پر جرح مکمل کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ دونوں ملزمان دیگر مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ پر تھے، جس کے باعث انہیں بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش کیا گیا۔
پراسیکیوشن اور صفائی کے دلائل
پراسیکیوشن کی جانب سے بیرسٹر فہد، عثمان رانا ایڈووکیٹ اور بیرسٹر منصور اعظم عدالت میں پیش ہوئے، جنہوں نے شواہد کی بنیاد پر مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کا سوشل میڈیا مواد ریاست مخالف سرگرمیوں کے مترادف ہے۔ دوسری جانب ملزمان کی طرف سے اسٹیٹ کونسل تیمور جنیوعہ نے وکالت کی۔
شواہد، چالان اور فیصلہ
پراسیکیوشن نے مجموعی طور پر پانچ گواہان پیش کیے اور تیس صفحات سے زائد پر مشتمل چالان عدالت میں جمع کرایا۔ چالان میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی مختلف ٹویٹس کو بطور ثبوت شامل کیا گیا، جنہیں ریاست مخالف مواد قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایمان مزاری کی مبینہ ریاست مخالف تقریر بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی۔ عدالت نے تمام شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد دونوں ملزمان کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے سزا سنا دی۔