پی آئی اے کی فروخت؛ عارف حبیب کنسورشیم کو کیا کچھ ملے گا؟
یوتھ ویژن نیوز : (خصؤصی رپورٹ برائے عمران قذافی سے) پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری کے بعد اس وقت سب سے زیادہ زیرِ بحث سوال یہ ہے کہ قومی ایئرلائن کے کون سے اثاثے فروخت کیے گئے ہیں اور عارف حبیب کنسورشیم کو عملی طور پر کیا کچھ منتقل ہوگا۔ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی فروخت کے بعد یہ وضاحت سامنے آ چکی ہے کہ نجکاری میں ایئرلائن کے تمام اثاثے شامل نہیں تھے۔
وفاقی حکومت نے ماضی میں پی آئی اے کو دو الگ قانونی اداروں میں تقسیم کیا تھا، جن میں پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ اور پی آئی اے کارپوریشن لمیٹڈ شامل ہیں۔ اس تقسیم کا مقصد یہ تھا کہ ایئرلائن کے بنیادی آپریشنز اور رئیل اسٹیٹ و قرضوں کو الگ الگ رکھا جائے تاکہ نجکاری کا عمل ممکن بنایا جا سکے۔؎
پی آئی اے کی نجکاری مکمل، عارف حبیب گروپ نے 135 ارب کی بولی جیت لی
پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے پاس ایئرلائن کی قیمتی جائیدادیں اور سرمایہ کاری موجود ہیں، جن میں امریکا کے شہر نیویارک میں واقع مشہور روزویلٹ ہوٹل، پیرس کا ہوٹل اسکرائب، ملک بھر میں دفاتر، پلاٹس، پریسیشن انجینئرنگ کمپلیکس، پی آئی اے انویسٹمنٹ لمیٹڈ اور دیگر جائیدادیں شامل ہیں۔ اسی کمپنی کے ذمے قومی ایئرلائن کے تقریباً 650 ارب روپے سے زائد قرضے اور واجبات بھی موجود ہیں، جو نجکاری معاہدے کا حصہ نہیں بنے۔
دوسری جانب پی آئی اے کارپوریشن لمیٹڈ میں ایئرلائن کے وہ اثاثے شامل ہیں جو پروازیں چلانے کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔ نجکاری کمیشن کے مطابق اس کمپنی کے پاس پی آئی اے کا 34 جہازوں پر مشتمل بیڑہ موجود ہے، جس میں سے 18 جہاز فعال جبکہ 16 گراؤنڈڈ ہیں۔ اس کے علاوہ ملکی و بین الاقوامی روٹس، کارگو، کیٹرنگ، ایوی ایشن سروسز اور دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں پر لینڈنگ اور ٹیک آف کے حقوق بھی اسی کمپنی کا حصہ ہیں۔
لینڈنگ رائٹس کو پی آئی اے کا سب سے قیمتی اثاثہ تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ لندن ہیتھرو، مانچسٹر، نیویارک اور دبئی جیسے اہم ایئرپورٹس پر یہ حقوق حاصل کرنا کسی بھی ایئرلائن کے لیے مشکل اور مہنگا ہوتا ہے۔ پی آئی اے کارپوریشن لمیٹڈ کے تحت کام کرنے والے تقریباً 6 ہزار 700 ملازمین بھی اسی آپریشنل ڈھانچے کا حصہ ہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والی نیلامی میں عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں خریدے، جبکہ لکی سیمنٹ اور ایئر بلیو کنسورشیم بھی اس عمل میں شریک تھے۔ تاہم معاہدے کے تحت پی آئی اے کا نام اور لوگو برقرار رکھا جائے گا، البتہ نئے سرمایہ کاروں کو انتظامی اور مالی اصلاحات کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔
مشیرِ نجکاری محمد علی نے واضح کیا ہے کہ نجکاری میں پی آئی اے کی رئیل اسٹیٹ، ہوٹلز اور سرمایہ کاری شامل نہیں، بلکہ صرف وہ اثاثے فروخت کیے گئے ہیں جو ایئرلائن چلانے کے لیے ضروری تھے۔ عارف حبیب گروپ کے سربراہ عارف حبیب نے بھی تصدیق کی ہے کہ نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل اور دیگر جائیدادیں معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق حکومت اب ہولڈنگ کمپنی کے تحت موجود جائیدادوں کو لیز یا فروخت کر کے حاصل ہونے والی آمدن سے پی آئی اے کے بھاری قرضے اتارنے کی حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہے، جبکہ آپریشنل کمپنی اب اپنی آمدن کے ذریعے خود کو مالی طور پر مستحکم کرنے کی کوشش کرے گی۔