پاکستان19دسمبر کو او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کرے گا،شاہ محمود قریشی

لاہور۔(قاری عاشق حسین سے ):وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 17ویں غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کرے گا،اجلاس 19دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا جس کا یک نکاتی ایجنڈا افغانستان ہوگا، وہ ہفتہ کے روز گورنر ہاوس لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار بھی موجود تھے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کے بارے میں اجلاس کا بنیادی مقصد افغانستان میں پائی جانیوالی تشویش پر عالمی توجہ مبذول کروانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان کے اس اہم معاملہ پر توجہ نہ دی گئی تو وہاں انسانی بحران جنم لے سکتا ہے، اسی طرح اگروہاں بروقت خوراک کا بندوبست نہ ہوا اور وسائل منجمند ہونے سے معاشی بحران کا بھی خدشہ ہو سکتا ہے۔

علاوہ ازیں افغانستان کے حالات پڑوسی ممالک سمیت خطے کیلئے تشویشناک ہوسکتے ہیں جس کے پیش نظر پاکستان کی طرف سے اجلاس کے انعقاد کیلئے کاوش کی گئی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اس وقت افغانستان کی صورتحال اس نوعیت کی ہے کہ اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو 22.8 ملین افغان خوراک کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ 3.2 ملین بچے غذائی قلت سے متاثر ہوسکتے ہیں جس کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں شرکت کیلئے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے وزراء کو دعوت دی گئی ہے اس کے علاوہ امریکہ ، چین ، روس، فرانس اور برطانیہ کے خصوصی نمائندوں کو بھی اجلاس میں شرکت کیلئے بلایا گیا ہے، اسی طرح یورپین یونین ، یو این ایجنسیز ، ورلڈ بنک کے نمائندے سمیت جرمنی ، جاپان، کینیڈا، آسٹریلیا جیسے ممالک کو بھی مدعو کیا جا رہا ہے جن کی موجودگی سے بین الاقوامی اتفاق رائے پیدا کرنے میں مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ افغانستان سے بھی اعلی سطحی وفد کو بلایا گیا ہے تا کہ وہ افغانستان کی صورتحال اور مسائل پر تبادلہ خیال کر سکے،

وزیر خارجہ نے کہا کہ اجلاس کے انعقاد کا یہ تصور اس وقت آیا جب وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کی دعوت پر وہاں گئے اور سعودی شہزادہ سے سائیڈ لائن پر ریاض میں وزیراعظم کی ملاقات ہوئی جس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ افغانستان کے مسئلے پر بھی بات ہوئی، چونکہ افغانستان او آئی سی کا فائونڈنگ ممبر بھی ہے اس لئے تمام مسلم امہ کو ملکر افغانستان کیلئے کچھ کرنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب او آئی سی سمٹ کی سربراہی کر رہا ہے جس کا آن بورڈ ہوناضروری تھا،

وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس تمام معاملے پر تعاون کیا کیونکہ ہمیں اس بات کا ادارک ہے اور موجودہ حالات میں افغانستان کو اکیلا چھوڑنا ایک تاریخی غلطی ہوگی اور ہمیں اس غلطی کو دہرانا نہیں چاہئے، انہوں نے کہا کہ ہم اس نتیجے پر بھی پہنچے ہیں کہ اگر افغانستان کے اہم مسئلے پر توجہ نہیں دی جاتی تو بحران پیدا ہو گا اور وہاں عدم استحکام آئے گا جو کہ مزید تنازعے کو جنم دے سکتا ہے جس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی 3 ملین افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے اور اگر دوبارہ کوئی اس طرح کا دبائو آتا ہے تو ہمارے وسائل اس کیلئے اجازت نہیں دیتے ۔انہوں نے کہا کہ میری 7 دسمبر کو برسلز میں یورپی یونین کے اعلیٰ ٰنمائندوں سے ملاقات ہوگی جس میں یہ کوشش ہو گی کہ ان کو افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے باور کروایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جب اگست میں افغانستان میں طالبان کی حکومت آئی اور وہاں صورتحال پیداہوئی تو بھارت نے پاکستان کے خلاف مہم چلائی اور ساری صورتحال کے ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی لیکن ہم نے بہترین حکمت عملی سے ایسا نہیں ہونے دیا اور ہندوستان کے مذموم عزائم کو شکست دی، انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی بہترین سفارتکاری کی وجہ سے بین الاقوامی برادری کو قائل کر چکا ہے کہ افغانستان کے ساتھ فوری مل بیٹھ کر بات چیت سب کے مفاد میں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 15اگست کے بعد انہوں نے تاجکستان ، ازبکستان ، ترکمانستان اور ایران کا دورہ کیا جس کے نتیجے میں ہم 6 ہمسایہ ممالک کا پلیٹ فارم بنانے میں کامیاب ہوئے جس کا مقصد یہ تھا کہ ہم ہمسایوں کی مشاورت سے حالات کو بہتربنا سکتے ہیں، اس طرح ماسکو میں ہونیوالی نشست میں بھی پاکستان کے کردار کو سراہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ 19دسمبر کو ہونیوالے غیر معمولی اجلاس میں دنیا کی توجہ افغانستان کے معاملے پر مبذول کروائی جا سکے اور یہ باور کروایا جائے کہ افغانستان کی صورتحال سے یورپین یونین مغربی ممالک سمیت ہم سب متاثر ہوں گے، انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے ذریعے یہ بھی طے کیا جائے گا کہ ہم وسائل کو کس طرح موبلائز کر سکتے ہیں اور دوسرے ممالک افغانستان کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اپنے وسائل کے مطابق ادویات ، گندم سمیت افغانستان کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے بھی افغانستان کو گندم کی فراہمی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اسے چاہئے کہ وہ بہانے بنانے کی بجائے فوری گندم فراہم کرے۔

میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیالکوٹ واقعہ باعث ندامت ہے جس کا وزیراعظم عمران خان نے سخت نوٹس لیا ہے اور وہ اس معاملہ کی خودنگرانی کر رہے ہیں اس طرح آرمی چیف کا نقطہ نظر بھی واضح ہے جبکہ وزیراعلی ٰپنجاب سردار عثمان بزدار نے بھی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے توقع ہے کہ ہم جلد اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ واقعہ کے پیچھے کیا حقیقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے ہائی کمیشن کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں جنہوں نے پاکستان کے موقف اور فوری کارروائی کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بارے میں پورے طبقے یا ملک پر انگشت نہیں اٹھائی جا سکتی۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ واقعہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، اس واقعہ سے سری لنکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہرگز خراب نہیں ہوں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ واقعہ میں ہلاک ہونے والے شخص کی سری لنکن فیملی سے رابطہ کیا گیا ہے ، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ای وی ایم اور دیگر قانون سازی پر دیگر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے اور اس پر اتفاق رائے پیدا ہو سکے لیکن بدقستمی سے ہمارے ہاں بعض اوقات مقاصد اوجھل ہو جاتے ہیں اور سیاست غالب آ جاتی ہے۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے ہر فورم پر اس سلسلہ میں توجہ مبذول کروائی گئی، سلامتی کونسل میں عرصہ دراز کے بعد تین مرتبہ مسئلہ کشمیر پر بحث ہوئی جہاں ہندوستان کا موقف تھا کہ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے لیکن پاکستان نے پرزور آواز بلند کی کہ یہ اندرونی معاملہ نہیں، بین الاقوامی تنازعہ ہے جس پر ہمارے موقف کو درست تسلیم کیا گیا، انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی جاری ہے اس حد تک کہ سید علی گیلانی کے جسد خاکی کو ان کی فیملی سے چھینا گیا اور وہ صرف اس لئے کہ وہ پاکستانی پرچم میں لیپٹا ہوا تھا، انہوں نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہر فورم پر اٹھایا جا رہا ہے، اس سلسلہ میں ایک ڈوزیئر تیار کیا گیا ہے اور وزرا ئے خارجہ سے ملاقات میں یہ ڈوزیئر پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ جس طرح افغانستان کے معاملے پر پاکستان کو کامیابی ملنے کا امکان ہے اس طرح کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے بھی مارچ 2022ء میں پاکستان کو ایک اور اہم موقع مل سکتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان توقعات مستحکم مضبوط اور عمدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک سمیت کوئی بھی منصوبہ نہیں رکے گا، داسو واقعہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ درحقیقت ایسے منصوبوں سے ان عناصر کو تکلیف پہنچتی ہے جو ان منصوبوں کو مکمل ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے، ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جس طرح کشمیر کے مسئلہ پر قومی اتفاق رائے موجود ہے اسی طرح افغانستان کے مسئلے پر اتفاق رائے دکھائی دیتا ہے جبکہ سی پیک پر بھی اتفاق رائے موجود ہے اور چین بھی اچھی طرح سے یہ جانتا ہے کہ کچھ طاقتیں اس منصوبہ میں رخنہ ڈالنا چاہتی ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوں گی۔

فیٹف کے حوالے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر گذشتہ 3 سالوں میں جتنا کام ہوا ماضی قریب میں اس کی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ فیٹف ارکان کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ پاکستان نے اس سلسلہ میں بے پناہ پیشرفت کی ہے اور میرے نزدیک 27آئٹمز میں سے 26.5پر عمل مکمل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018ء اور 2021ء کے الیکشن پلان پر پیشرفت کی انہوں نے کہا کہ میری نظر میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا جواز نہیں بنتا لیکن کچھ قوتیں فیٹف کو استعمال کرنا چاہتی ہیں اور اپنی چیزیں منوانا چاہتی ہے اور بھارت اس سلسلہ میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ فیٹف کے آئندہ اجلاس میں پاکستان کی طرف سے کی گئی پیشرفت کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنا ہوگا اوراگر پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا جاتا ہے تو یہ فورم اپنے اعتماد کو متاثر کر جائے گا، گورنر پنجاب چوہدری سرور کے حوالے سے سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ کہیں نہیں جا رہے سب قیاس آرائیاں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں