صدر مملکت کا بی جے پی ترجمان کے گستاخانہ بیان پر سخت ردعمل

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بی جے پی رہنما کی جانب سے رسول اللہ (ﷺ) کی شان بدترین گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہوئے مودی کے دور حکومت میں بھارت میں مذہبی آزادی پامال ہورہی ہے جس پر دنیا کو فوری ایکشن لینا چاہیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی ترجمان نپور شرما کی جانب سے آقائے دو جہاں رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی شان میں گستاخی پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمارے پیارے نبی اکرم ﷺ کی ذات پاک کے بارے میں بی جے پی راہنما کے بیان کی شدید مذمت کرتا ہوں جس سے ہم سب مسلمانوں کے دل زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ بارہا کہہ چکا ہوں کی مودی کے اقتدار میں مذہبی آزادیوں کو کچلا اور مسلمانوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، دنیا نوٹس لیتے ہوئے ان اقدامات پر بھارت کی سرزنش کرے۔

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ہندوستان کے حکمراں جماعت بی جے پی رہنماؤں کے توہین آمیز تبصروں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ توہین آمیز اور متنازع بیانات سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، ایسے بیانات ہندوستان میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے عکاس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’توہین آمیز بیان دینے پر محض پارٹی عہدیداروں کو معطل کرنا اور نکال دینا کافی نہیں، بی جے پی کو اپنے انتہا پسند اور فاشسٹ ہندوتوا نظریے سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہوگی، مودی کے نفرت انگیز ہندوتوا فلسفے کے تحت بھارت اپنی تمام اقلیتوں کی مذہبی آزادیوں کو پامال کر رہا ہے اور ان پر بلاامتیاز ظلم کر رہا ہے، اس طرح کے اسلامو فوبک بیانات کی اجازت دینا انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ’ایسے بیانات مزید تعصب، تشدد اور نفرت کا باعث بن سکتے ہیں، لہذا عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور منظم مذہبی ظلم و ستم کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور روک تھام کے لیے اقدامات کریں‘۔

واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی ترجمان نپور شرما کی جانب سے آقا کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی تھی جس پر بی جے پی نے خاتون رہنما کو عہدے سے برطرف کرکے پارٹی رکنیت معطل کردی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں