ایران کا امریکا سے اسرائیل فرسٹ پالیسی ترک کرنے کا مطالبہ

ایران کا امریکا سے مطالبہ

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) ایران نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی حمایت پر مبنی اپنی پالیسی ترک کرے اور طے شدہ سفارتی معاہدوں کی پاسداری کرے۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے غیر جانبدار اور ذمہ دارانہ سفارتی رویہ ضروری ہے۔

امریکا کی پالیسی پر ایرانی تنقید

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کی “اسرائیل فرسٹ” پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طرزِ عمل خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن لانا ہوگا تاکہ اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکا اپنے سفارتی وعدوں کی پاسداری کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو علاقائی تنازعات کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔

مزاحمتی تحریکوں سے تعلق کا مؤقف

محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کے مشرق وسطیٰ کی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ مضبوط اسٹریٹجک تعلقات ہیں اور ان کا جنگ بندی کے حوالے سے مؤقف یکساں ہے۔ ان کے مطابق یہ تعلقات علاقائی توازن اور مزاحمت کا حصہ ہیں۔

لبنان کے ساتھ رابطہ اور جنگ بندی پر بات چیت

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے لبنانی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو بھی کی جس میں لبنان میں جاری صورتحال اور جنگ بندی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کے مطابق لبنان میں امن ایران کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا خود ایران کے لیے استحکام۔

امریکا ایران کشیدگی اور حالیہ جنگ بندی دعوے

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں محدود جنگ بندی کی صورتحال بھی سامنے آئی ہے، جس کے تحت بعض عسکری کارروائیوں میں وقفہ اور سفارتی روابط میں بہتری کا عندیہ دیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے مکمل تفصیلات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بیان بازی میں شدت کے باوجود خطے میں سفارتی چینلز فعال ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے حل کے لیے مختلف سطحوں پر رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں