اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گوادر سے گدھے کے گوشت و کھالوں کی برآمد کی منظوری دیدی

قتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی نمایاں تصویئر

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گوادر سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد، گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد سمیت متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مختلف وزارتوں کے لیے فنڈز اور دیگر اہم معاملات پر غور کیا گیا۔

گوادر سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد

وزارت خزانہ کے مطابق ای سی سی نے گوادر میں موجود گدھوں کے گوشت اور کھالوں کے ذخیرے کو قواعد کے مطابق برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف مقامی وسائل کا مؤثر استعمال ممکن ہوگا بلکہ برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد

اجلاس میں استعمال شدہ گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد اور مرمت کے بعد دوبارہ برآمد کے ایک سالہ پائلٹ منصوبے کی منظوری بھی دی گئی۔

اس منصوبے کا مقصد صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے، جس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

جبری مشقت سے بنی اشیاء پر پابندی

ای سی سی نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دی۔

یہ اقدام عالمی تجارتی اصولوں کے مطابق ہے اور اس کا مقصد انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

مختلف شعبوں کے لیے فنڈز کی منظوری

اجلاس میں بلوچستان میں افسران کے لیے 31 کروڑ 10 لاکھ روپے، نیب کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے 37 کروڑ 20 لاکھ روپے اور قومی ہاکی ٹیم کے لیے 3 کروڑ روپے انعام کی منظوری دی گئی۔

حکام کے مطابق یہ فنڈز مختلف شعبوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

مہنگائی کی صورتحال پر بریفنگ

اجلاس کے دوران ای سی سی کو مہنگائی کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ بھی دی گئی۔ بتایا گیا کہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں استحکام آنا شروع ہو گیا ہے۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ ٹماٹر، پیاز، آٹا، لہسن اور ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے جبکہ چینی کی قیمت میں بھی کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

اجلاس میں بتایا گیا کہ انڈے، چکن، دالیں، گھی اور دودھ کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے تاہم مجموعی طور پر حساس قیمتوں کے اشاریے میں کمی کا رجحان برقرار ہے۔

حکام نے قیمتوں کے استحکام پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

بجلی کمپنیوں کے معاہدے پر مزید غور

ای سی سی اجلاس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے متعلق پبلک سروس آبلیگیشن معاہدے کا معاملہ مزید غور کے لیے متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت توانائی کے شعبے میں پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں