چین عالمی اقتصادی امور میں قائدانہ حیثیت کا حامل، سابق صدر کروشیا کا بیان

سابق صدر کروشیا کی نمایاں تصویر

یوتھ ویژن نیوز : (ثاقب ابراہیم سے) بیجنگ: کروشیا کے سابق صدر ایوو یوسیپوویچ نے عالمی نظام میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین نہ صرف ایک اہم شراکت دار ہے بلکہ کئی شعبوں میں عالمی اقتصادی امور میں قائدانہ حیثیت بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے عالمی سیاست اور معیشت میں جاری تبدیلیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کثیر قطبی نظام کے فروغ کو ناگزیر قرار دیا۔

عالمی نظام میں کثیر قطبی رجحان

ایوو یوسیپوویچ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ دنیا اب یک قطبی نظام سے نکل کر کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں مختلف طاقتیں مشترکہ طور پر عالمی معاملات کو آگے بڑھاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک ملک کی بالادستی والا نظام اب مؤثر نہیں رہا اور عالمی برادری کو توازن پر مبنی نظام کی ضرورت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مستقبل میں عالمی سیاست کا دارومدار تعاون، شراکت داری اور باہمی احترام پر ہوگا، جس میں مختلف ممالک کو برابر کی حیثیت دی جائے گی۔

عالمی اقتصادی امور میں چین کا کردار

چین کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے سابق کروشین صدر نے کہا کہ چین عالمی معیشت میں ایک نمایاں قوت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نہ صرف ترقی پذیر ممالک کے لیے مواقع فراہم کر رہا ہے بلکہ عالمی اقتصادی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ان کے مطابق چین کی پالیسیز اور اقتصادی اقدامات نے کئی ممالک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے، جس سے عالمی معیشت میں توازن پیدا ہو رہا ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی اہمیت

ایوو یوسیپوویچ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو ایک اہم عالمی منصوبہ قرار دیا جو مختلف ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ انفراسٹرکچر، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کے ذریعے چین نے عالمی سطح پر اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے مثبت اثرات مستقبل میں مزید واضح ہوں گے۔

صدر شی جن پنگ کے گلوبل انیشی ایٹوز

صدر شی جن پنگ کے گلوبل انیشی ایٹوز

سابق صدر کروشیا نے چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کیے گئے چار گلوبل انیشی ایٹوز کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات عالمی سطح پر تعاون، ترقی اور استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان انیشی ایٹوز کے ذریعے دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز جیسے معاشی عدم توازن، ماحولیاتی مسائل اور سلامتی کے خدشات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

عالمی سطح پر مثبت تبدیلیوں کی توقع

ایوو یوسیپوویچ نے اس امید کا اظہار کیا کہ چین کے اقدامات اور عالمی تعاون کے رجحان سے دنیا میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں عالمی نظام کا استحکام اسی وقت ممکن ہوگا جب ممالک باہمی تعاون اور احترام کے اصولوں پر عمل کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں