ایران نے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے مشرق وسطیٰ تنازعہ کے خاتمے کا نیا امن منصوبہ پیش کر دیا
یوتھ ویژن نیوز : (تحران) – ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے تنازعہ کو حتمی طور پر ختم کرنے کے لیے ایک نیا سفارتی منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس تجویز میں آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام کو طویل مدت کے لیے معطل کرنے سمیت مراعات کی پیشکش کی گئی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو تصدیق کی کہ نظرثانی شدہ امن تجویز پاکستان کے ذریعے امریکی حکام کو پہنچا دی گئی ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی خطرے میں ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کو "زندگی کی سہارے پر” قرار دے دیا ہے۔
ایران کی جامع امن تجویز
ذرائع کے مطابق ایران کے نئے امن منصوبے میں اہم مراعات شامل ہیں:
آبنائے ہرمز کا مرحلہ وار کھلنا: ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور جنگ کے مستقل خاتمے کے عوض آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے کی پیشکش کی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی پانچویں حصے کی تیل اور قدرتی گیس کی سپلائی کا ذریعہ ہے۔
جوہری پروگرام کی طویل مدتی معطلی: ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو طویل مدت کے لیے معطل کرنے اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو روس جیسے تیسرے ملک میں منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ اقدام ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے خواہش نہ رکھنے کا ثبوت ہے۔
معاوضے کی ادائیگیاں: ایران نے جنگی نقصانات کے معاوضے، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور تمام محاذوں پر جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے جہاں اسرائیل ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ سے لڑ رہا ہے۔
پاکستان کا ثالثی کردار
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پائے جانے والے تعطل کو توڑنے کے لیے خاموش لیکن موثر سفارتی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ذاتی طور پر ثالثی کے عمل میں شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے پاکستان کے ثالثی کردار کو "قابل قدر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مرکزی ثالث ہے اور اس حیثیت کو تبدیل کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
امریکی اور ٹرمپ کا ردعمل
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ "گھڑی ٹک ٹک کر رہی ہے” اور ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے امن معاہدے کو قبول نہ کیا تو "ان میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا”۔ انہوں نے ٹروتھ سوشل پر مشرق وسطیٰ کا نقشہ امریکی پرچم کے ساتھ پوسٹ کرکے اپنے موقف کو مزید واضح کیا۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ منگل کو قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے آپشنز پر بات کر سکتے ہیں۔ تاہم ایرانی ذرائع کے مطابق امریکہ نے مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں کا ایک چوتھائی حصہ جاری کرنے اور جوہری نگرانی کے تحت پرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دینے میں نرمی ظاہر کی ہے۔
آئندہ امکانات
ماہرین کے مطابق ایران کا یہ امن منصوبہ تنازعے کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے، لیکن دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی شدید کمی اور جوہری پروگرام جیسے کلیدی مسائل پر اختلافات ابھی تک برقرار ہیں۔ پاکستانی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ وقت بہت کم ہے اور دونوں فریق "اپنے گول پوسٹ بدلتے رہتے ہیں”۔
واضح رہے کہ یہ تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوا تھا، جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ پاکستان کی ثالثی سے 8 اپریل کو جنگ بندی عمل میں آئی تھی، جسے ٹرمپ نے لامحدود مدت کے لیے بڑھا دیا تھا۔