قومی اسمبلی میں ویڈیو ریکارڈنگ تنازع، رانا ثناء اللہ کا قانونی کارروائی پر زور

قومی اسمبلی میں ویڈیو ریکارڈنگ تنازع، رانا ثناء اللہ کا قانونی کارروائی پر زور

یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد) – قومی اسمبلی میں ویڈیو ریکارڈنگ کے تنازع نے پارلیمانی حلقوں میں گرما گرم بحث کو جنم دے دیا ہے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک شخص، جسے وزیر ریلوے حنیف عباسی کے خلاف شکایت تھی، ناصر بٹ کے ہمراہ اسمبلی آیا اور اس نے وہاں ویڈیو شاٹس بنائے، جنہیں بعد میں سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا گیا۔

اس معاملے پر پارلیمنٹ میں گفتگو ہوئی۔ کارروائی سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جو بھی شخص، چاہے وہ کسی کے ساتھ آیا ہو، اگر اس نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کی جماعت کے اندرونی افراد کا معاملہ ہے، دونوں فریقین کو بلا کر سنا جائے اور معاملہ باہمی طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کا تقدس برقرار رکھا جائے اور ایسے واقعات کو مستقبل میں روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

واقعے کی تفصیلات

ذرائع کے مطابق وزیر ریلوے حنیف عباسی کے خلاف شکایت رکھنے والا شخص سینیٹر ناصر بٹ کے ساتھ قومی اسمبلی میں آیا تھا۔ اس نے اجلاس کے دوران ویڈیو شاٹس بنائے، جو بعد میں وائرل ہو گئے۔ اس اقدام کو پارلیمانی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ سیکرٹریٹ کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اجازت کے بغیر ویڈیو ریکارڈنگ کرنا قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے۔

پارلیمنٹ میں قانونی حیثیت

قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق، پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر ویڈیو ریکارڈنگ کرنے کے لیے اسپیکر سے اجازت لینا ضروری ہے۔ 2024 میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ویڈیو ریکارڈنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی، جس کے بعد صحافیوں اور دیگر افراد کو اجازت کے بغیر ویڈیو بنانے سے روک دیا گیا تھا۔

ماہرین قانون کے مطابق، پارلیمنٹ ہاؤس میں غیر مجاز ویڈیو ریکارڈنگ کے خلاف قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ اسپیکر اپنی صوابدید پر فرد کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوام میں ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ صارفین نے اسے پارلیمنٹ کے تقدس کی خلاف ورزی قرار دیا تو کچھ نے اسے احتساب کی ایک شکل قرار دیا۔

حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان بھی اس معاملے پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے، جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں