جاز اورGSMA کا پاکستانی خواتین کے لیے انقلابی ڈیجیٹل پروگرام
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) اسپین کے شہر بارسلونا میں منعقدہ دنیا کی سب سے بڑی موبائل نمائش، موبائل ورلڈ کانگریس (MWC) میں پاکستان کے صفِ اول کے ڈیجیٹل سروس پلیٹ فارم "جاز ورلڈ” نے خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کے حوالے سے ایک انقلابی روڈ میپ پیش کر دیا ہے۔ جاز ورلڈ نے عالمی ادارے GSMA کے ساتھ مل کر یہ عہد کیا ہے کہ 2028 تک پاکستان میں خواتین کی ڈیجیٹل شرکت کو بنیادی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی سے آگے بڑھا کر ان کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنایا جائے گا۔ اس اسٹریٹجک شراکت داری کا مقصد صنفی بنیادوں پر ڈیجیٹل فرق کو ختم کرنا اور خواتین کو معاشی و سماجی طور پر مضبوط بنانا ہے۔
جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور اسٹریٹجک شراکت داری
اس منصوبے کے تحت جاز اپنے مقبول پلیٹ فارمز جیسے ‘تماشا’، ‘سموسہ’ (SIMOSA)، ‘فکر فری’ اور ‘اپنا کلینک’ پر خواتین کی بھرپور شرکت کو یقینی بنائے گا۔ اس تعاون کا ایک اہم پہلو GSMA کے ساتھ طے پانے والی وہ مفاہمت کی یادداشت (MoU) ہے جس کے تحت پاکستانی اسٹارٹ اپس کو مالی معاونت اور عالمی سطح کا تکنیکی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ جاز ورلڈ کا ہدف ہے کہ خواتین کو مالیاتی خدمات (Fintech)، صحت (Health-tech) اور تعلیمی مواد تک آسان رسائی دی جائے تاکہ وہ اپنے گھر بیٹھے اپنے مسائل حل کر سکیں۔
سی ای او جاز عامر ابراہیم کا وژن
جاز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) عامر ابراہیم نے بارسلونا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "محض انٹرنیٹ کی فراہمی ہمارا مقصد نہیں، بلکہ ہم ایسی ڈیجیٹل خدمات ڈیزائن کر رہے ہیں جو عام زندگی کے حقیقی مسائل حل کریں۔” ان کا کہنا تھا کہ جب خواتین کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے مالی معاملات سنبھالنے اور فوری طبی مشورے حاصل کرنے کی سہولت ملے گی، تو وہ قدرتی طور پر ٹیکنالوجی کی طرف راغب ہوں گی۔ یہ اقدام پاکستانی کاروباری افراد، خصوصاً خواتین انٹرپرینیورز کو عالمی شناخت دلانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
پاکستانی معیشت اور ڈیجیٹل مستقبل پر اثرات
ماہرین کا ماننا ہے کہ خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت سے پاکستان کی جی ڈی پی (GDP) میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ جاز ورلڈ کا یہ عزم نہ صرف پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ کے استعمال کو فروغ دے گا بلکہ یہ "ڈیجیٹل پاکستان” کے خواب کی تعبیر کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے لاکھوں خواتین کو ڈیجیٹل خواندگی (Digital Literacy) فراہم کی جائے گی، جو مستقبل کے روزگار کے بازار میں ان کی مسابقت کو یقینی بنائے گی۔ یوتھ ویژن اس اہم پیشرفت کو پاکستانی نوجوانوں اور خواتین کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیتا ہے۔