سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی
یوتھ ویژن نیوز : ( ثاقب ابراہیم سے) ایوانِ بالا نے تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے 27ویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا۔ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج اور بائیکاٹ کیا جبکہ پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے سینیٹر احمد خان نے پارٹی مؤقف کے برعکس حکومت کے حق میں ووٹ دیا۔
وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل
ترمیم کے تحت ملک میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دی گئی جو آئین کی تشریح اور مفادِ عامہ کے مقدمات کی نگرانی کرے گی۔ عدالت کو سپریم کورٹ سے بالاتر آئینی دائرہ دیا گیا ہے، جس کے فیصلے تمام عدالتوں پر لاگو ہوں گے، البتہ سپریم کورٹ کے فیصلے وفاقی آئینی عدالت پر لاگو نہیں ہوں گے۔
ترمیم کے مطابق سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس (سوموٹو) اختیارات ختم کر کے یہ اختیار وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 184 اور 186 حذف کر دیے گئے ہیں، اور ججز کی تعیناتی، تبادلے اور ریفرنس کے نئے طریقہ کار کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
27ویں آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری : اتحادی جماعتوں کی ترامیم مسترد، ترمیم کل سینیٹ میں پیش ہوگی
ترمیم کے تحت سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور سینیئر ججز جوڈیشل کمیشن کے رکن ہوں گے۔ ججز کے تبادلے اب جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر ممکن ہوں گے، اور کسی چیف جسٹس کا تبادلہ نہیں کیا جا سکے گا۔ تبادلے سے انکار کرنے والے جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جا سکے گا۔
اہم ترمیم آرٹیکل 243 میں کی گئی ہے، جس کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ تبدیل کر کے “کمانڈر آف ڈیفنس فورسز” رکھا گیا ہے۔ صدرِ مملکت وزیرِاعظم کی ایڈوائس پر کمانڈر کا تقرر کریں گے، جب کہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025ء کے بعد ختم تصور کیا جائے گا۔
صدر مملکت کو تاحیات استثنا
ترمیم کے مطابق آرٹیکل 248 میں صدرِ مملکت کو تاحیات قانونی استثنا دے دیا گیا ہے۔ عہدے سے سبکدوشی کے بعد اگر صدر کوئی عوامی عہدہ سنبھالتے ہیں تو اس مدت میں استثنا ختم ہو جائے گا۔ گورنرز کو صرف اپنے عہدے کی مدت تک استثنا حاصل ہوگا۔
ایوان میں ہنگامہ آرائی
ترمیمی ووٹنگ کے دوران اپوزیشن ارکان نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر چیئرمین کے ڈائس کے سامنے نعرے بازی کی۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے بیشتر ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے جبکہ سیف اللہ ابڑو ووٹنگ میں شریک رہے۔ اپوزیشن نے ترمیم کو “اداروں کے اختیارات میں غیر متوازن مداخلت” قرار دیا جبکہ حکومت نے اسے “جمہوریت اور دفاع کے استحکام کی سمت اہم قدم” کہا۔
حکومتی موقف
وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ”یہ ترمیم آئین کی بالادستی اور عدالتی اصلاحات کی ضمانت ہے، کسی ادارے کا اختیار کم نہیں بلکہ واضح کیا گیا ہے۔ ” اسحاق ڈار، محسن نقوی اور خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے اور “یہ ترمیم ملک کے عدالتی و دفاعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے گی۔“
اختتامی مرحلہ
حتمی رائے شماری کے بعد چیئرمین سینیٹ نے اعلان کیا کہ ” ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے اور مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں“۔ اجلاس میں 59 شقوں پر مشتمل ترمیمی بل منظور کر کے اسے سرکاری گزٹ میں اشاعت کے لیے بھیج دیا گیا، جس کے بعد 27ویں آئینی ترمیم پاکستان کی تاریخ کی ایک نئی دستوری حقیقت بن گئی۔