سیاسی اختلاف کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے، آزاد کشمیر کی ترقی اولین ترجیح ہے، نواز شریف

نواز شریف کی زیرصدارت آزاد کشمیر حکومت سازی سے متعلق مسلم لیگ ن کا اجلاس

یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد)- پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی اور آئندہ حکومتی ترجیحات کے حوالے سے اہم ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست میں مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کا ماحول ہمیشہ اچھا رہا ہے اور سیاسی اختلافات کو اس حد سے آگے نہیں لے جانا چاہیے جہاں باہمی تعلقات متاثر ہوں۔

مری میں نواز شریف کی زیرصدارت مسلم لیگ (ن) کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے نومنتخب اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر مشاورت کی گئی۔

پیپلزپارٹی کی شکایت پر نواز شریف کا ردعمل

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے شکایت کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے سیاسی مخالفین کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کرنے کی کوشش کی ہے اور سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔

آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان مختلف معاملات پر بیان بازی سامنے آئی تھی۔ دونوں جماعتیں وفاق میں اتحادی ہیں، تاہم آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کے بعد ان کے درمیان کشیدگی اور انتخابی عمل سے متعلق اعتراضات بھی رپورٹ ہوئے۔

نواز شریف نے کہا کہ کشمیر کا ماحول ہمیشہ اچھا رہا ہے، اس لیے سیاسی مقابلے کو ایک دوسرے کے خلاف دشمنی کی شکل نہیں دینی چاہیے۔

آزاد کشمیر میں عوامی خدمت پر زور

مسلم لیگ (ن) کے صدر نے آزاد کشمیر انتخابات میں کامیاب ہونے والے اراکین اسمبلی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو پہلے دو مراحل میں اکثریت حاصل ہوچکی ہے۔ انہوں نے ان امیدواروں کو بھی سراہا جو انتخابات میں کامیاب نہ ہوسکے۔

نواز شریف نے واضح کیا کہ انتخابی کامیابی کے بعد اصل امتحان عوام کو عملی طور پر ریلیف اور ترقی فراہم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں ڈیلیور نہیں کیا تو عوام ناراض ہوں گے، اس لیے عوام کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح بنانا ہوگا۔

آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے لیے ہیلی کاپٹر کی تجویز

نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف سے کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو ہیلی کاپٹر فراہم کیا جائے تاکہ پہاڑی اور دور دراز علاقوں تک رسائی آسان ہوسکے اور وزیراعظم مختلف حلقوں میں جاکر عوام کے مسائل کا براہ راست جائزہ لے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر ایک پہاڑی خطہ ہے، جہاں کئی علاقوں تک زمینی سفر وقت طلب ہوسکتا ہے، اس لیے حکومت کو عوامی رابطے اور انتظامی رسائی بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

شہباز شریف اور مریم نواز سے تعاون کی ہدایت

نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف سے آزاد کشمیر حکومت کو زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ترقی کی بنیاد شہباز شریف نے رکھی اور مریم نواز نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا، اب آزاد کشمیر کے عوام بھی ترقی اور فلاحی منصوبوں کی توقع رکھتے ہیں۔

انہوں نے مریم نواز سے بھی آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی تاکہ پنجاب میں جاری بعض فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں کے تجربات سے آزاد کشمیر کے عوام کو بھی فائدہ پہنچایا جاسکے۔

طلبہ اور کسانوں کے لیے سہولتوں کی تجویز

نواز شریف نے آزاد کشمیر کے طلبہ کے لیے لیپ ٹاپس اور اسکالرشپس فراہم کرنے کی تجویز بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی فراہم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے آزاد کشمیر میں کسان کارڈ کے اجرا کی بھی تجویز پیش کی تاکہ زرعی شعبے سے وابستہ افراد کو سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ ان کے مطابق عوامی فلاح کے منصوبوں کا مقصد صرف اعلانات نہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگی میں عملی بہتری لانا ہونا چاہیے۔

آزاد کشمیر کابینہ میرٹ پر بنانے کی ہدایت

نواز شریف نے آزاد کشمیر کابینہ کی تشکیل میں میرٹ کو ترجیح دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنے منشور پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا اور ترقیاتی اسکیمیں بھرپور انداز میں شروع کی جانی چاہئیں۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں امیر مقام اور رانا ثنا اللہ کی انتخابی مہم کے دوران محنت کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ امیر مقام نے انتخابی مہم میں اس طرح حصہ لیا جیسے وہ اپنا ذاتی انتخاب لڑ رہے ہوں۔

پنجاب کی طرز پر آزاد کشمیر میں ترقی کا عزم

نواز شریف نے کہا کہ جس طرح پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا گیا، اسی طرح آزاد کشمیر کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر کے عوام کو بہتر بنیادی سہولتیں، تعلیم، صحت، زراعت اور انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مخالفین نے صرف نعرے لگائے جبکہ ترقی کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ملک اب پیچھے نہیں بلکہ آگے بڑھ رہا ہے اور بہت جلد مسائل پر قابو پانے کی کوششیں مزید نتیجہ خیز ہوں گی۔

ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام کرنے کی ہدایت

نواز شریف نے آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کو بھرپور انداز میں شروع کرنے پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کو اپنے منشور پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق عوام نے مسلم لیگ (ن) کو خدمت کا موقع دیا ہے اور اس موقع کو عوامی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آزاد کشمیر حکومت کے فیصلوں میں میرٹ، عوامی ضرورت اور عملی کارکردگی کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

سیاسی اختلاف کے ساتھ جمہوری رویہ ضروری

نواز شریف کے خطاب کا ایک اہم پہلو سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کرنے کا پیغام تھا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم اسے ذاتی یا باہمی دشمنی میں تبدیل کرنا مناسب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں عوامی فلاح، ترقی اور بہتر حکمرانی کو ترجیح دے گی۔ ان کے مطابق حکومت کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہوگا کہ عام شہریوں کو تعلیم، صحت، روزگار، زراعت اور بنیادی سہولتوں کے شعبوں میں کتنا ریلیف ملتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں