ویانا میں یوم استحصال کشمیر کی تقریب، بھارتی اقدامات کے خلاف کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی
( خصؤصی رپورٹ برائے زاہد غنی چوہان )
یوتھ ویژن نیوز:(ویانا )— 5 اگست کی مناسبت سے یوم استحصال کشمیر کے سلسلے میں پاکستان سفارتخانہ ویانا میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں آسٹریا میں مقیم پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے ارکان، مصری کمیونٹی، میڈیا نمائندگان اور مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا اور کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا۔
تقریب سفیر پاکستان محمد کامران اختر کی زیر سرپرستی منعقد ہوئی، جس میں مقررین نے کشمیر کی صورتحال، 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر اظہار خیال کیا۔
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے
یوم استحصال کشمیر کی تقریب کا آغاز منظور احمد بٹ کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس سے قبل سفارتخانے کی تھرڈ سیکریٹری سیدہ مبشرہ عروج نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے شرکا کو خوش آمدید کہا اور تقریب کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔
تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جن میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے نمائندگان کے علاوہ آسٹریا میں مقیم دیگر کمیونٹیز، میڈیا اور تعلیمی اداروں سے وابستہ شخصیات بھی شامل تھیں۔
صدر، وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے پیغامات
تقریب کے دوران پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری جنید سلیمان نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے جاری کیے گئے پیغامات شرکا کو پڑھ کر سنائے۔
ان پیغامات میں 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات اور اس کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کیا گیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جانا چاہیے۔
تقریب کے شرکا کو مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک مختصر دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس میں کشمیر کی صورتحال اور کشمیری عوام کی جدوجہد کو اجاگر کیا گیا۔
سفیر پاکستان کا عالمی برادری سے مطالبہ
اپنے خصوصی خطاب میں سفیر پاکستان محمد کامران اختر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے۔
سفیر پاکستان نے کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کی حمایت کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پرامن اور دیرپا حل خطے میں امن و استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
محمد کامران اختر نے عالمی برادری سے مسئلہ کشمیر پر توجہ برقرار رکھنے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مقررین کا 5 اگست 2019 کے اقدامات پر اظہار تشویش
تقریب میں آسٹریا میں مقیم بین الاقوامی، پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کی نمائندگی کرنے والے مقررین نے بھی اظہار خیال کیا۔
یونیورسٹی میڈیسن ویانا کے پروفیسر عزت اواد، ایڈوائزر یورپین یوتھ ایسوسی ایشن عارف سیم اور چیئرمین کشمیر فریڈم فرنٹ آسٹریا پروفیسر ملک شوکت مسرت اعوان نے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات اور اس کے بعد کیے جانے والے اقدامات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
مقررین نے بالخصوص ڈومیسائل اور زمین کی ملکیت سے متعلق قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے خطے کی سیاسی اور سماجی صورتحال پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ کشمیر کے مسئلے کو نظر انداز کرنے کے بجائے اس کے پرامن حل کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے۔
کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی
تقریب کے دوران مقررین اور شرکا نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
شرکا کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف جنوبی ایشیا کے لیے نہیں بلکہ علاقائی امن و سلامتی کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور انسانی حقوق کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔
یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کشمیر کے مسئلے کو سفارتی اور پرامن ذرائع سے عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
تقریب کے اختتام پر سفارتخانہ پاکستان کی جانب سے شرکا کے لیے ریفریشمنٹ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ویانا میں منعقدہ یہ تقریب پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے لیے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے مؤقف اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا ایک اہم موقع ثابت ہوئی۔
2. یوم استحصال کشمیر کی تقریب میں کس نے شرکت کی؟
تقریب میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی، مصری کمیونٹی، میڈیا اور تعلیمی اداروں سے وابستہ نمائندگان نے شرکت کی۔