پیٹرولیم بحران: 4 دن کام، 3 دن چھٹی کی تجویز زیر غور
یوتھ ویژن نیوز : (عباس احمد ) اسلام آباد: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں، ایندھن کے اخراجات اور سرکاری وسائل پر بڑھتے دباؤ کے تناظر میں ہفتے میں صرف چار روز کام اور تین روز اداروں کی بندش کی تجویز زیر غور ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم اس معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ 15 ستمبر 2026 تک وفاقی حکومت کی جانب سے اس تجویز کی باضابطہ منظوری یا کوئی نیا سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
نجی میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت ایندھن کے استعمال، بجلی کی کھپت اور انتظامی اخراجات میں کمی کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ان میں سرکاری و نجی دفاتر کے ساتھ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے کام کے دن کم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
چار دن کام اور تین دن چھٹی کا ممکنہ پلان کیا ہے؟
رپورٹس کے مطابق مجوزہ نظام میں ادارے ہفتے کے صرف چار دن معمول کے مطابق کام کریں گے، جبکہ تین دن اداروں کی سرگرمیاں محدود یا معطل رہ سکتی ہیں۔ تاہم اس تجویز کی حتمی شکل ابھی سامنے نہیں آئی اور یہ بھی واضح نہیں کہ تمام اداروں کے لیے ایک ہی شیڈول ہوگا یا مختلف شعبوں کے لیے الگ انتظامات کیے جائیں گے۔
زیر غور ماڈل میں بعض ملازمین کو دفتری حاضری جبکہ دیگر عملے کو مخصوص دنوں میں ورک فرام ہوم کی سہولت دینے کی بات بھی کی جارہی ہے۔ اس طرح ادارے مکمل طور پر غیر فعال کرنے کے بجائے افرادی قوت کو مختلف دنوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
حکومت ایسا قدم کیوں اٹھا سکتی ہے؟
چار روزہ ورکنگ ویک کی تجویز کا بنیادی مقصد مبینہ طور پر ایندھن اور توانائی کی بچت ہے۔ اگر ملازمین کو ہفتے میں ایک یا زیادہ دن دفتر، تعلیمی ادارے یا دیگر مقامات پر سفر نہ کرنا پڑے تو پیٹرول اور ڈیزل کی طلب میں کمی آسکتی ہے۔
اس کے علاوہ دفاتر کے بجلی، ایئر کنڈیشننگ، ٹرانسپورٹ، سکیورٹی اور دیگر انتظامی اخراجات میں بھی کمی لانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں حکومت پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے۔
حکومت نے حال ہی میں کم آمدنی والے طبقات کے لیے وزیراعظم کے فیول ریلیف پروگرام کی منظوری بھی آگے بڑھائی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 14 ستمبر کو اس اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی، جس کے تحت اہل دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے محدود ریلیف دیا جانا ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے بھی مخصوص مقدار پر ریلیف رکھا گیا ہے۔
کیا یہ پہلی مرتبہ ایسا اقدام ہوگا؟
پاکستان میں موجودہ بحران کے دوران چار روزہ کام کا تصور پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا۔ مارچ 2026 میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث حکومت نے ایندھن بچانے کے لیے متعدد غیر معمولی اقدامات کیے تھے۔
اس وقت وفاقی حکومت نے سرکاری دفاتر کے لیے پیر سے جمعرات تک چار روزہ ورکنگ ویک کا اعلان کیا تھا، جبکہ بعض شعبوں اور ضروری خدمات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ اسی عرصے میں سرکاری اخراجات میں کمی، آن لائن اجلاس اور ورک فرام ہوم سمیت دیگر اقدامات بھی کیے گئے تھے۔
صوبوں نے بھی اپنی سطح پر مختلف اقدامات کیے تھے۔ پنجاب میں تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر کے حوالے سے ورک فرام ہوم اور ایندھن بچانے کی پالیسی اختیار کی گئی، جبکہ خیبر پختونخوا میں بعض تعلیمی اداروں کے لیے ہفتے کے اضافی دن تعطیل کا نظام نافذ کیا گیا تھا۔
کیا اس بار تین دن مکمل چھٹی ہوگی؟
یہ وہ سوال ہے جس پر فی الحال واضح سرکاری جواب موجود نہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق تین دن اداروں کو مکمل طور پر بند رکھنے یا مختلف عملے کے لیے مختلف دن مقرر کرنے جیسے آپشنز زیر غور ہوسکتے ہیں۔
اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پورے ملک میں لازماً جمعہ، ہفتہ اور اتوار تین دن عام تعطیل ہوگی۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے بغیر ایسا دعویٰ حتمی خبر کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
خاص طور پر اسپتال، ریسکیو، پولیس، بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ، ایئرپورٹس اور دیگر ضروری خدمات کے لیے الگ انتظامات کی ضرورت ہوگی۔ اسی طرح صنعتی اور زرعی شعبوں کا شیڈول بھی سرکاری دفاتر سے مختلف ہوسکتا ہے۔
پیٹرول کی موجودہ قیمت اور بحران کا پس منظر
حکومت نے 12 ستمبر 2026 کو پیٹرول کی قیمت میں 5.02 روپے فی لیٹر اضافہ کرکے اسے 375.82 روپے فی لیٹر کردیا تھا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 403.32 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی۔ یہ اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے اثرات کے تناظر میں سامنے آیا۔
اسی پس منظر میں حکومت ایک طرف صارفین کے لیے ٹارگٹڈ فیول ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری جانب سرکاری اخراجات اور ایندھن کی کھپت کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
حتمی فیصلہ کب ہوگا؟
چار روزہ ورکنگ ویک اور تین روزہ تعطیلات سے متعلق موجودہ اطلاعات کو فی الحال تجویز یا زیر غور حکومتی آپشن سمجھنا چاہیے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے نئے شیڈول، حاضری کے طریقہ کار، ورک فرام ہوم، تعلیمی سرگرمیوں اور ضروری خدمات کے لیے الگ انتظامات کی تفصیلات باضابطہ نوٹیفکیشن کے بعد ہی واضح ہوں گی۔
لہٰذا عوام، ملازمین، طلبہ اور والدین کو اس وقت تک اپنے موجودہ شیڈول کے مطابق کام اور تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنی چاہئیں، جب تک متعلقہ وفاقی یا صوبائی حکومت باضابطہ اعلان نہ کرے۔
اگر حکومت اس تجویز کو عملی شکل دیتی ہے تو یہ ملک میں توانائی اور ایندھن کے استعمال میں کمی کے لیے ایک بڑا انتظامی قدم ہوگا، تاہم اس کے ساتھ تعلیمی کیلنڈر، نجی شعبے کی پیداوار، عوامی خدمات اور ملازمین کی کارکردگی پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔