بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا بڑا ایکش، 26 فتنہ الخوارج اور36 دہشتگرد ہلاک
یوتھ ویژن نیوز : (کوئٹہ) بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کی متعدد انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران 36 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق گزشتہ 48 سے 72 گھنٹوں کے دوران صوبے میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 48 ہوگئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تازہ کارروائیاں گزشتہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے مختلف علاقوں میں کی گئیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ کارروائیوں میں ان گروہوں کے خلاف ایکشن لیا گیا جنہیں ریاستی بیان میں ’’فتنہ الہندوستان‘‘ اور ’’فتنہ الخوارج‘‘ سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔
مستونگ میں 6 دہشت گرد ہلاک
آئی ایس پی آر کے مطابق مستونگ میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی اطلاع ملنے پر کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران 6 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات (آئی ای ڈیز) بھی برآمد ہوئے، جنہیں موقع پر ہی تلف کردیا گیا۔
فوجی بیان کے مطابق مستونگ کی کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور علاقے میں موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کا مقصد ان کے ممکنہ حملوں کو ناکام بنانا تھا۔
کوئٹہ کے شعبان میں 26 دہشت گرد ہلاک
بلوچستان میں ہونے والی تازہ کارروائیوں میں سب سے بڑی کارروائی کوئٹہ کے علاقے شعبان میں کی گئی، جہاں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے چار ٹھکانوں کی نشاندہی کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے بعد ان ٹھکانوں میں موجود 26 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ فوجی بیان میں ان افراد کو ’’فتنہ الخوارج‘‘ سے وابستہ قرار دیا گیا ہے۔
شعبان کی کارروائی کے نتیجے میں تازہ آپریشنز میں ہلاک ہونے والے 36 دہشت گردوں میں سے سب سے زیادہ ہلاکتیں اسی علاقے میں ہوئیں۔
قلات میں بھی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن
قلات میں سکیورٹی فورسز نے ایک دہشت گرد ٹھکانے پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
اس کے علاوہ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ قلات ہی میں اس سے قبل ایک الگ کارروائی کے دوران 12 دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔ اس طرح تازہ 48 سے 72 گھنٹوں کی مجموعی تعداد میں قلات کے دونوں آپریشنز کی ہلاکتیں شامل ہیں۔
سبی کے بھاگ میں پولیس اسٹیشن پر حملہ ناکام
ضلع سبی کے علاقے بھاگ میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی جانب سے پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش ناکام بنادی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مقامی آبادی کے تعاون سے سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی اور فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
یہ کارروائی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے ریاستی تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جسے سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ناکام بنایا۔
72 گھنٹوں میں 48 دہشت گرد ہلاک
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 48 سے 72 گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 48 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
اس مجموعی تعداد میں تازہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی میں ہلاک ہونے والے 36 دہشت گردوں کے علاوہ قلات میں اس سے قبل ہونے والی کارروائی میں مارے گئے 12 دہشت گرد بھی شامل ہیں۔
ریاستی بیان کے مطابق کارروائیوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں سینیٹائزیشن اور کلیئرنس آپریشنز بھی جاری رکھے گئے تاکہ اگر کوئی مزید مسلح عناصر موجود ہوں تو ان کا سراغ لگایا جاسکے۔
بلوچستان میں 2026 کے دوران 1188 سے زائد ہلاکتیں
آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال بلوچستان میں مختلف کارروائیوں کے دوران اب تک 1188 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے جاچکے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کے منظور کردہ ’’عزمِ استحکام‘‘ وژن کے تحت جاری ہیں اور سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رکھنے کا عزم
آئی ایس پی آر کے مطابق تازہ کارروائیوں کے بعد بھی متعلقہ علاقوں میں سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔ اس کا مقصد ان علاقوں کو مزید محفوظ بنانا اور ممکنہ طور پر موجود دیگر دہشت گرد عناصر کو تلاش کرنا ہے۔
بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران دہشت گردی کے متعدد واقعات اور ان کے جواب میں سکیورٹی آپریشنز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یکم ستمبر کو بھی صوبے کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 21 دہشت گرد ہلاک ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، جبکہ سکیورٹی فورسز کے 6 اہلکار بھی شہید ہوئے تھے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں مسلسل ترجیح بنی ہوئی ہیں۔
وزیراعظم اور حکومتی ردعمل
تازہ کارروائیوں کے بعد حکومتی سطح پر بھی سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کے عزم اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سکیورٹی اداروں کی کوششوں کو مکمل تعاون حاصل رہے گا۔ حالیہ کارروائیوں کے حوالے سے سرکاری طور پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
بلوچستان میں امن کے لیے مسلسل کارروائیاں
بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے بعض علاقوں میں دہشت گردی، مسلح شورش اور ریاستی تنصیبات پر حملوں کے چیلنجز برقرار رہے ہیں۔ ایسے حالات میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں دہشت گرد نیٹ ورکس کی نشاندہی اور ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے سکیورٹی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔
تازہ کارروائیوں میں مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی میں مختلف نوعیت کے آپریشنز کیے گئے، جبکہ کارروائیوں کے بعد کلیئرنس اور سینیٹائزیشن کا عمل بھی جاری رکھا گیا۔
سکیورٹی فورسز کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مہم ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت جاری رہے گی۔ تاہم آپریشنز کے نتیجے، ہلاکتوں اور دہشت گرد گروہوں سے متعلق اعداد و شمار بنیادی طور پر آئی ایس پی آر کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں، جنہیں آزاد ذرائع سے ہر واقعے میں مکمل طور پر فوری طور پر تصدیق کرنا ممکن نہیں ہوتا۔