عمران خان کی اسپتال منتقلی؛ توہین عدالت کی درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی گئی
یوتھ ویژن نیوز : (ثاقب ابراہیم سے)- بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے میں اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عمران خان کی بہن کی جانب سے دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے بعد دوبارہ دائر کر دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ کے سابقہ حکم پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے توہین عدالت کی درخواست پر اعتراض عائد کرتے ہوئے نشاندہی کی تھی کہ درخواست میں ان فریقین کے خلاف الزامات کی فہرست فراہم نہیں کی گئی جنہیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ رجسٹرار آفس کے اعتراض کے باعث درخواست واپس کر دی گئی تھی۔
بعد ازاں پی ٹی آئی کی جانب سے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیے گئے اور توہین عدالت کی درخواست دوبارہ دائر کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق درخواست میں عدالتی حکم پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کا عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کا مؤقف
پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق 18 اگست کے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی نے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی اور اسے جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی بھی استدعا کی گئی۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کے دوران انہیں درخواست پر عائد اعتراض سے آگاہ کیا گیا۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اعتراض دور کرکے درخواست دوبارہ جمع کرا دی گئی ہے اور پارٹی کی خواہش ہے کہ معاملے کی سماعت جلد ہو تاکہ عمران خان کی صحت سے متعلق صورتحال پر عدالتی حکم کے مطابق پیش رفت یقینی بنائی جا سکے۔
عمران خان کی بہن کی جانب سے درخواست
عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر ان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ سمیت دیگر شخصیات کو فریق بنایا گیا تھا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے شفا اسپتال منتقل کرنے اور طبی معائنے سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیا جائے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے مؤقف سامنے آیا ہے کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ اہم ہے اور عدالتی احکامات پر بروقت عمل درآمد ہونا چاہیے۔
شفا اسپتال منتقلی سے متعلق عدالتی حکم
اس معاملے کا پس منظر سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم سے جڑا ہے، جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا اسپتال منتقل کرنے سے متعلق احکامات جاری کیے گئے تھے۔
عدالتی حکم میں عمران خان کی بہن اور ذاتی معالج کو طبی ماہرین کے پینل میں شامل کرنے سے متعلق بھی ہدایات دی گئی تھیں۔ بعد میں عمران خان کی اسپتال منتقلی کے طریقہ کار اور عدالتی حکم پر عمل درآمد کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔
حکومت کی جانب سے اس معاملے پر اپنا قانونی مؤقف بھی اختیار کیا گیا، جبکہ پی ٹی آئی نے عدالتی حکم پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ جاری رکھا۔
پی ٹی آئی کی جلد سماعت کی درخواست
بیرسٹر گوہر کے مطابق پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ توہین عدالت کی درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت ان کے لیے انتہائی اہم ہے اور ان کے اہل خانہ کو بھی ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے کو قانونی طریقے سے آگے بڑھانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور ہونے کے بعد درخواست دوبارہ دائر ہونے سے اب معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے مزید کارروائی کے لیے موجود ہے۔
دوسری جانب اس کیس میں فریقین کے قانونی مؤقف اور عدالت کی جانب سے آئندہ کارروائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ عدالت اس معاملے کو کس قانونی تناظر میں دیکھتی ہے۔
عمران خان کی صحت سے متعلق معاملہ
عمران خان کی اسپتال منتقلی کا معاملہ ان کی صحت اور طبی سہولیات سے براہ راست متعلق ہونے کے باعث سیاسی اور قانونی دونوں سطحوں پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے پر مختلف مؤقف سامنے آتے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کا اصرار ہے کہ عمران خان کے علاج اور طبی معائنے کے حوالے سے عدالت کے احکامات پر من و عن عمل ہونا چاہیے، جبکہ حکومتی حکام پہلے ہی عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق اپنا مؤقف پیش کر چکے ہیں۔
اب رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرکے درخواست دوبارہ دائر کیے جانے کے بعد آئندہ عدالتی کارروائی اس معاملے میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور
عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق تنازع اب ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔ توہین عدالت کی درخواست میں حکومت کے اہم عہدیداروں کو فریق بنایا گیا ہے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
آئندہ سماعت میں عدالت درخواست کے قابل سماعت ہونے، فریقین کے مؤقف اور عدالتی حکم پر عمل درآمد سے متعلق صورتحال کا جائزہ لے سکتی ہے۔ تاہم درخواست کے حتمی قانونی نتائج کا تعین عدالت کی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔
فی الحال اہم پیش رفت یہ ہے کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد اعتراض دور کرکے توہین عدالت کی درخواست دوبارہ دائر کر دی گئی ہے، جس کے بعد پی ٹی آئی کی نظریں سپریم کورٹ کی آئندہ کارروائی پر مرکوز ہیں۔