شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ٹرمپ کی حمایت کا خیرمقدم کردیا

وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے بیان

یوتھ ویژن نیوز : (ثاقب ابراہیم سے) مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ٹرمپ کی حمایت کا خیرمقدم، خطے کی سلامتی میں کردار جاری رکھیں گے، شہباز شریف

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حمایت کے اظہار کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنے برادر ممالک کے ساتھ مل کر خطے کے دفاع اور سلامتی کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر کی جانب سے تینوں ممالک کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو سراہنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر صدر ٹرمپ کے حمایت بھرے الفاظ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور جمہوریہ ترکیہ کے ساتھ مل کر اپنے ممالک سمیت پورے خطے کے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے میں اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

ٹرمپ کی حمایت کا وزیراعظم شہباز شریف نے خیرمقدم کردیا

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں امریکی صدر کے مؤقف کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن عوام کے روشن اور خوشحال مستقبل کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خطے میں سلامتی اور استحکام کا فروغ تمام ممالک کے عوام کے مفاد میں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ٹرمپ نے معاہدے کو خطے میں باہمی دفاع اور تعاون کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ سلامتی سے متعلق اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے کی ایک اہم شق کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ معاہدہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی موجودگی میں طے پایا۔ معاہدے کو تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کے نئے مرحلے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

پاکستان کا علاقائی سلامتی میں کردار جاری رکھنے کا عزم

وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر اپنے ممالک اور وسیع تر خطے کے دفاع اور سلامتی میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ یہ مؤقف پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے ساتھ قریبی سفارتی اور دفاعی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق خطے میں پائیدار امن کا قیام نہ صرف موجودہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے بلکہ عوام کے معاشی اور سماجی مستقبل کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

جنوبی ایشیا میں امن کا حوالہ

شہباز شریف نے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کی قیادت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کی جرات مندانہ اور فیصلہ کن قیادت نے جنوبی ایشیا میں جوہری تباہی کو روکنے اور لاکھوں جانیں بچانے میں مدد کی۔

وزیراعظم نے اس حوالے سے پائیدار امن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے عوام کے لیے روشن، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی بنیاد امن اور استحکام ہی سے رکھی جاسکتی ہے۔

ٹرمپ نے معاہدے کو بڑا اور اہم قدم قرار دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی قیادت کو مبارکباد دی۔ انہوں نے معاہدے کو دفاعی خود انحصاری اور علاقائی تعاون کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

ٹرمپ کے بیان کے مطابق تینوں ممالک کا باہمی تعاون خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے معاملات میں زیادہ مؤثر انداز میں تعاون کرنے کی جانب لے جاسکتا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے معاہدے کی حمایت کو پاکستان کے لیے بھی ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

معاہدہ علاقائی تعاون کے نئے امکانات پیدا کرسکتا ہے

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید منظم کرنے کے امکانات پیدا کیے ہیں۔ تینوں ممالک پہلے ہی مختلف شعبوں میں سفارتی اور دفاعی روابط رکھتے ہیں، جبکہ نئے معاہدے سے مشترکہ سلامتی کے معاملات میں رابطہ مزید بڑھنے کی توقع کی جارہی ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی حالیہ بیان میں کہا ہے کہ معاہدہ مزید ممالک کے لیے کھلا ہوسکتا ہے اور مصر کی شمولیت کا امکان بھی موجود ہے۔ تاہم کسی نئے رکن کی شمولیت کے لیے متعلقہ ممالک کی رضامندی اور معاہدے کے طریقہ کار کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

خطے میں امن اور استحکام پر زور

پاکستان کی جانب سے مکہ معاہدے کے حوالے سے سامنے آنے والے مؤقف میں علاقائی امن اور استحکام کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق پاکستان اپنے برادر ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کے ذریعے امن کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط اور علاقائی سیکیورٹی تعاون عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ مختلف عالمی تجزیوں میں بھی اس معاہدے کو خطے میں سیکیورٹی تعاون کے بدلتے ہوئے رجحانات کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات

پاکستان کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دیرینہ برادرانہ اور سفارتی تعلقات ہیں۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ان تعلقات کو دفاع اور علاقائی سلامتی کے شعبے میں مزید منظم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ٹرمپ کی حمایت کا خیرمقدم اور خطے کے دفاع میں پاکستان کا کردار جاری رکھنے کا عزم اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد اس معاہدے کو وسیع تر علاقائی امن اور سلامتی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔

پائیدار امن پاکستان کی ترجیح

وزیراعظم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پائیدار امن عوام کے روشن اور خوشحال مستقبل کے لیے سب سے اہم شرط ہے۔ اس مؤقف کے تحت پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر علاقائی امن، استحکام اور سلامتی کے لیے تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر امریکی صدر کی حمایت اور وزیراعظم شہباز شریف کے خیرمقدمی بیان کے بعد یہ معاملہ خطے کی سفارتی اور دفاعی پیش رفت میں اہم موضوع بن گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان عملی تعاون اور ممکنہ توسیع سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں