50 ہزار تک شمالی کوریائی فوجی روس بھیجے جانے کا دعویٰ، زیلنسکی کا اہم انکشاف

ALT Text: زیلنسکی کا شمالی کوریائی فوجیوں کی روس آمد سے متعلق دعویٰ

یوتھ ویژن نیوز (بین الاقوامی ڈیسک) — یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا روس کے ساتھ فوجی تعاون مزید بڑھاتے ہوئے 30 ہزار سے 50 ہزار تک فوجی اہلکار روس بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ زیلنسکی کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے روس کے ساتھ جنگی تعاون کا مقصد نہ صرف ماسکو کی مدد کرنا بلکہ جدید جنگ کے تجربات اور فوجی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا بھی ہوسکتا ہے۔

زیلنسکی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور شمالی کوریا کے درمیان دفاعی و فوجی تعاون گزشتہ کچھ عرصے کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ یوکرینی صدر اس سے قبل بھی روس کی جانب سے مزید شمالی کوریائی فوجیوں کی طلب کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ جولائی میں ان کی جانب سے تقریباً 30 ہزار اضافی اہلکاروں کی ممکنہ آمد کا ذکر کیا گیا تھا۔

شمالی کوریا اور روس کے درمیان بڑھتا فوجی تعاون

زیلنسکی کے مطابق شمالی کوریا روس کے ساتھ تعاون کے ذریعے جدید جنگ کے طریقوں، بالخصوص ڈرونز اور میدانِ جنگ میں استعمال ہونے والی نئی حکمت عملیوں کا تجربہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ روس کے ساتھ عملی جنگی تجربات کے تبادلے کو اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

روس اور شمالی کوریا کے درمیان عسکری تعلقات پہلے ہی یوکرین جنگ کے دوران نمایاں ہو چکے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع کے مطابق شمالی کوریا کے ہزاروں فوجی 2024 کے دوران روس پہنچے تھے اور بعد ازاں روس کے کرسک خطے میں ان کی موجودگی اور جنگی کردار کی رپورٹس سامنے آئیں۔ یوکرین اور اس کے اتحادیوں نے شمالی کوریائی فوجیوں کی روسی فوج کے ساتھ جنگ میں شرکت کا دعویٰ کیا، جبکہ اس تعاون نے عالمی سطح پر تشویش بھی پیدا کی۔

مزید فوجیوں کی ممکنہ آمد

تازہ دعوے کے مطابق روس شمالی کوریا سے مزید فوجی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی علاقے میں ممکنہ طور پر نئے اہلکاروں کی میزبانی کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ تاہم اس دعوے کی تمام تفصیلات اور بالخصوص 30 سے 50 ہزار فوجیوں کی تعداد کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔

جولائی میں بھی زیلنسکی نے روس کی جانب سے مزید 30 ہزار شمالی کوریائی فوجیوں کے حصول کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ روس کے وورونیز خطے میں ممکنہ آمد کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔ جنوبی کوریا کی حکومت نے بھی اس دعوے کے بعد صورتِ حال پر نظر رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

شمالی کوریا کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق روس کے ساتھ فوجی تعاون شمالی کوریا کے لیے عملی جنگی تجربات، جدید جنگی ٹیکنالوجی اور دفاعی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔ یوکرین جنگ میں ڈرونز، الیکٹرانک وارفیئر اور جدید نگرانی کے نظام کا استعمال نمایاں رہا ہے، جس کے باعث میدانِ جنگ کا تجربہ رکھنے والے اہلکار شمالی کوریا کی مستقبل کی فوجی منصوبہ بندی کے لیے اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔

بین الاقوامی تجزیوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس کو اضافی افرادی قوت ملنے سے وہ اپنے فوجی وسائل کو مختلف محاذوں پر بہتر انداز میں تقسیم کرسکتا ہے، جبکہ شمالی کوریا کو روس کے ساتھ گہرے تعلقات کے ذریعے دفاعی اور تکنیکی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ تاہم ان ممکنہ فوائد کی نوعیت اور دائرہ کار کے بارے میں حتمی معلومات محدود ہیں۔

یوکرین کی تشویش میں اضافہ

یوکرین کے لیے شمالی کوریا کی مزید ممکنہ فوجی شمولیت ایک اہم تشویش بن چکی ہے۔ کییف کا مؤقف ہے کہ روس کو بیرونی فوجی مدد ملنے سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔ زیلنسکی نے بارہا اپنے اتحادی ممالک سے روس اور شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے تعاون کے تناظر میں مزید حمایت اور دفاعی تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب جنوبی کوریا بھی روس اور شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے عسکری تعلقات کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے۔ سیئول نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی روس کے ساتھ فوجی شراکت داری سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لے رہا ہے۔

جنگی تجربات اور علاقائی سلامتی

زیلنسکی کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اگر روس کے ذریعے جدید جنگ کا تجربہ حاصل کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف یورپ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایشیا بحرالکاہل کے خطے کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق شمالی کوریا روس سے حاصل ہونے والے جنگی تجربات کو مستقبل میں اپنی فوجی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال میں یہ بات اہم ہے کہ 30 سے 50 ہزار نئے شمالی کوریائی فوجیوں کی روس آمد ایک یوکرینی دعویٰ ہے، جس کی مکمل آزادانہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔ اس لیے حتمی تعداد یا تعیناتی کے بارے میں محتاط انداز اپنانا ضروری ہے۔

روس اور شمالی کوریا کے تعلقات کا مستقبل

روس اور شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات یوکرین جنگ کے ساتھ ساتھ عالمی جغرافیائی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اگر شمالی کوریا کی جانب سے مزید فوجی روس بھیجے جانے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ جنگ میں بیرونی عسکری شمولیت کے دائرے کو مزید وسیع کرسکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان فوجی تعاون کس حد تک بڑھتا ہے اور آیا اضافی شمالی کوریائی اہلکار واقعی روس پہنچتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال 30 سے 50 ہزار فوجیوں کی تعداد کو حتمی حقیقت کے بجائے زیلنسکی کے بیان کردہ دعوے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں