عالمی منڈی میں تیل سستا، پاکستان میں پیٹرول مہنگا کیوں؟

عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ

یوتھ ویژن نیوز : (خصوصی رپورٹ علی رضا سے )-عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کے لیے حیران کن صورتحال بن گیا ہے۔ فراہم کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 45 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ اس تبدیلی کے بعد صارفین میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کم ہو رہی ہے تو پاکستان میں پیٹرول کیوں مہنگا کیا جا رہا ہے؟

دستیاب حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان نے جولائی 2026 میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے لیے نیا روزانہ قیمتوں کا نظام متعارف کرایا، جس میں عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو ایک سات روزہ rolling average کی بنیاد پر مقامی نرخوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں ایک ہی دن ہونے والی قیمت میں کمی لازمی طور پر اسی دن پاکستانی صارفین کے لیے قیمت میں کمی کا باعث نہیں بنتی۔

عالمی تیل کی قیمت کم ہونے کے باوجود پیٹرول کیوں مہنگا؟

پیٹرول کی مقامی قیمت صرف عالمی خام تیل کی قیمت سے طے نہیں ہوتی۔

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کے علاوہ درآمدی لاگت، ایکسچینج ریٹ، پٹرولیم مصنوعات کی بین الاقوامی قیمت، حکومتی محصولات، لیوی، کسٹم ڈیوٹی اور دیگر متعلقہ اخراجات بھی حتمی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

نئے نظام میں سات دن کی اوسط استعمال ہونے کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں حالیہ کمی کا اثر مقامی قیمت پر مرحلہ وار منتقل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر عالمی قیمتوں میں گزشتہ چند دنوں کے دوران نمایاں کمی آئے بھی تو اس کا مکمل اثر فوری طور پر پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں نظر آنا ضروری نہیں۔

سات روزہ اوسط کا فارمولا کیسے کام کرتا ہے؟

حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے طریقہ کار کے تحت روزانہ قیمتوں کا اعلان کیا جاتا ہے، تاہم حساب کے لیے عالمی مارکیٹ کی سات روزہ اوسط کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کے مطابق اس mechanism کا مقصد قیمتوں میں عالمی تبدیلیوں کو زیادہ تیزی سے مقامی مارکیٹ تک منتقل کرنا اور قیمتوں کے تعین میں شفافیت پیدا کرنا ہے۔

اس سے پہلے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی نسبتاً طویل وقفوں سے کی جاتی تھی، جبکہ جولائی 2026 میں عالمی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث روزانہ قیمتوں کے نظام کی طرف منتقل ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔

ٹیکس اور لیوی بھی قیمت کا اہم حصہ

عالمی خام تیل کی قیمت مقامی پٹرول کی حتمی قیمت کا صرف ایک حصہ ہے۔ حکومت کی جانب سے عائد مختلف ٹیکسز، پٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات بھی صارفین کی ادا کردہ قیمت میں شامل ہوتے ہیں۔ اسی لیے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی پمپ پر پٹرول اسی تناسب سے سستا ہو جائے گا۔

اس کے علاوہ روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ میں تبدیلی بھی درآمدی ایندھن کی لاگت کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر عالمی قیمت میں کمی ہو لیکن دیگر cost components میں اضافہ یا استحکام موجود ہو تو مجموعی مقامی قیمت میں کمی محدود رہ سکتی ہے۔

پیٹرول مہنگا، ڈیزل سستا؛ فرق کیوں؟

پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں ہمیشہ ایک ہی سمت میں حرکت نہیں کرتیں، کیونکہ دونوں مصنوعات کی عالمی مارکیٹ قیمتیں، طلب، سپلائی، درآمدی لاگت اور دیگر components مختلف ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ممکن ہے کہ ایک ہی قیمت نظرثانی میں پیٹرول مہنگا جبکہ ڈیزل سستا ہو جائے۔

نئے روزانہ pricing mechanism کے تحت جولائی کے دوران بھی مختلف دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں الگ الگ مقدار میں اضافہ یا کمی ریکارڈ کی گئی۔

عوام کو مکمل ریلیف کب مل سکتا ہے؟

اگر عالمی منڈی میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہتا ہے تو سات روزہ اوسط میں بھی بتدریج کمی آسکتی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہوگی۔ تاہم حتمی قیمت کا انحصار عالمی benchmark، ایکسچینج ریٹ، حکومتی محصولات اور دیگر pricing components پر ہوگا۔

لہٰذا عالمی قیمت میں کمی اور مقامی پٹرول کی قیمت میں فوری کمی کے درمیان فرق کو صرف ایک عامل سے سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اصل تصویر سات روزہ اوسط، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور حکومتی محصولات کو مجموعی طور پر دیکھنے سے سامنے آتی ہے۔

عوام کے لیے سب سے اہم سوال شفافیت کا ہے: اگر عالمی منڈی میں قیمتیں مسلسل نیچے آتی ہیں تو حکومت اور متعلقہ ریگولیٹر کو قیمت کے تعین کے تمام اجزا واضح طور پر سامنے رکھنے چاہییں تاکہ صارفین کو معلوم ہو سکے کہ عالمی قیمت میں تبدیلی کا کتنا حصہ مقامی پٹرول کی قیمت میں منتقل ہوا اور ٹیکسز و دیگر اخراجات کا کتنا حصہ برقرار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں