پنجاب ای بائیک سکیم نے رجسٹریشن کے ریکارڈ توڑ دیے
یوتھ ویژن نیوز : (عباس احمد سے)– پنجاب ای بائیک سکیم فیز ٹو میں 4 لاکھ 32 ہزار طلبہ رجسٹرڈ ہوگئے۔
لاہور: پنجاب حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر CM ای بائیک سکیم فیز ٹو کا آغاز کردیا گیا ہے، جسے طلبہ کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی مل رہی ہے۔ سکیم کا آن لائن پورٹل کھلنے کے بعد ابتدائی دو دن میں صوبے بھر سے 4 لاکھ 32 ہزار طلبہ نے رجسٹریشن کرائی، جبکہ 2 لاکھ 65 ہزار سے زائد طلبہ کا رجسٹریشن عمل جاری تھا اور ایک لاکھ 8 ہزار سے زیادہ درخواستیں جمع ہوچکی تھیں۔
ای بائیک سکیم فیز ٹو کیلئے درخواست کی آخری تاریخ
پنجاب حکومت کی موجودہ ای بائیک سکیم کے تحت اہل طلبہ 4 اکتوبر 2026 تک آن لائن درخواستیں جمع کراسکتے ہیں۔ درخواست دینے کے لیے سرکاری ای بائیک پورٹل استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں طلبہ اپنی رجسٹریشن اور درخواست کا عمل مکمل کرسکتے ہیں۔
موجودہ مرحلہ پنجاب میں طلبہ کے لیے الیکٹرک موبیلٹی کو فروغ دینے کے بڑے منصوبوں میں شامل ہے۔ اس سے قبل صوبائی حکومت نے ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ پروگرام سمیت نوجوانوں کے لیے مختلف اقدامات کیے، جبکہ ای بائیک سکیم کا مقصد تعلیمی اداروں تک طلبہ کی آمدورفت کو نسبتاً آسان اور کم خرچ بنانا ہے۔
زیرو ڈاؤن پیمنٹ اور تقریباً 3 ہزار روپے ماہانہ قسط
فیز ٹو کی نمایاں خصوصیات میں طلبہ کے لیے ڈاؤن پیمنٹ ختم کرنا شامل ہے۔ حکومت پنجاب نے طلبہ پر ابتدائی رقم کا بوجھ کم کرنے کے ساتھ فنانسنگ سے متعلق سود اور انشورنس کے اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تازہ معلومات کے مطابق طلبہ سے تقریباً 3 ہزار روپے ماہانہ قسط وصول کرنے کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ بعض دستیاب تفصیلات میں ماہانہ رقم 3,028 روپے بتائی گئی ہے۔ اس طرح کامیاب امیدواروں کو ایک ساتھ بڑی رقم ادا کرنے کے بجائے مقررہ ماہانہ اقساط کے ذریعے ای بائیک حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
کتنی ای بائیکس فراہم کی جائیں گی؟
حکومت پنجاب کی جانب سے فیز ٹو کے لیے 125 ہزار سے زائد الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم بعض تازہ پورٹل معلومات میں موجودہ درخواست مرحلے کے لیے 100 ہزار ای بائیکس کا عدد بھی درج ہے۔ اس لیے حتمی مختص تعداد کے حوالے سے طلبہ کو سرکاری پورٹل پر موجود تازہ معلومات کو ترجیح دینی چاہیے۔
حکومت نے بتایا ہے کہ سکیم میں جدید لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹری ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کامیاب طلبہ کو بائیک کے ساتھ ہیلمٹ اور سیفٹی راڈ بھی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
ای بائیک سکیم کیلئے کون اپلائی کرسکتا ہے؟
موجودہ فیز ٹو کی تازہ دستیاب معلومات کے مطابق پنجاب میں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے اہل طلبہ درخواست دے سکتے ہیں۔ عمر کے حوالے سے تازہ معلومات میں کم از کم 16 سال کی شرط سامنے آئی ہے، جبکہ امیدوار کے پاس ڈرائیونگ لائسنس، لرنر پرمٹ یا متعلقہ اجازت نامہ ہونا ضروری بتایا گیا ہے۔ بعض ذرائع میں والد یا قانونی سرپرست کی بطور گارنٹر معلومات اور آمدن کے ثبوت کی شرط بھی درج ہے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ سکیم کے ابتدائی اعلانات اور مختلف مراحل میں اہلیت کی شرائط تبدیل ہوئی ہیں، اس لیے طلبہ کو پرانی خبروں کے بجائے درخواست جمع کراتے وقت موجودہ سرکاری پورٹل پر درج شرائط کو حتمی سمجھنا چاہیے۔
دو روزہ ڈرائیونگ ٹریننگ بھی فراہم کی جائے گی
حکومت پنجاب نے طلبہ کی محفوظ سفری سہولت کو بھی سکیم کا حصہ بنایا ہے۔ ای بائیک حاصل کرنے والے طلبہ کو ہیلمٹ اور سیفٹی راڈ فراہم کرنے کے ساتھ دو روزہ ڈرائیونگ اور سیفٹی ٹریننگ دینے کا منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ درخواست اور ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد اہل طلبہ کو ای بائیکس کی فراہمی کے لیے تیزی سے اقدامات کیے جائیں۔ دستیاب سرکاری اعلان کے مطابق منظوری کے بعد تقریباً چھ ہفتوں میں بائیک کی فراہمی کے انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
طلبہ کیلئے اہم ہدایت
چونکہ سکیم کے لیے چند ہی دنوں میں لاکھوں طلبہ نے رجسٹریشن کرائی ہے، اس لیے درخواست دینے والے امیدوار اپنے تعلیمی، شناختی، ڈرائیونگ اور گارنٹر سے متعلق مطلوبہ کوائف پہلے سے مکمل رکھیں۔ درخواست صرف پنجاب حکومت کے متعلقہ سرکاری پورٹل کے ذریعے جمع کرانا بہتر ہے اور کسی غیر سرکاری ویب سائٹ یا ایجنٹ کو فیس، OTP یا بینکنگ معلومات فراہم نہیں کرنی چاہیے۔
پنجاب ای بائیک سکیم فیز ٹو کی غیر معمولی ابتدائی مقبولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلبہ کے لیے کم لاگت اور ماحول دوست سفری سہولت کی ضرورت خاصی زیادہ ہے۔ حکومت کی جانب سے زیرو ڈاؤن پیمنٹ، سود اور انشورنس کی ادائیگی اور کم ماہانہ قسط جیسی سہولیات اس پروگرام کو نوجوانوں کے لیے زیادہ قابل رسائی بنانے کی کوشش ہیں۔