سعودی عرب کی ایران کی جانب سے اردن پر حملوں کی شدید مذمت، فوری جنگ بندی کا مطالبہ

سعودی عرب کے وزیر خارجہ ایران کے اردن پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے

یوتھ ویژن نیوز : (ریاض) –سعودی عرب نے ایران کی جانب سے اردن پر جاری حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے اپنے تازہ مؤقف میں اردن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی کارروائیاں عالمی قوانین اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

سعودی عرب کا اردن کے ساتھ اظہار یکجہتی

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ریاض اردن اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ایرانی حملوں کے جواب میں اردن کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ خطے کے ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کا احترام علاقائی امن کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

سعودی مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور خطے کے متعدد ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ریاض اس سے قبل بھی اردن سمیت خلیجی اور عرب ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کر چکا ہے اور انہیں خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔

ایران سے فوری حملے روکنے کا مطالبہ

سعودی وزارت خارجہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ اردن اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف حملے فوری طور پر بند کیے جائیں۔ سعودی عرب کے مطابق مسلسل فوجی کشیدگی سے نہ صرف متعلقہ ممالک کی سلامتی متاثر ہوتی ہے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

ریاض نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی بحالی کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات پر بھی زور دیا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ تنازعات کو مزید بڑھانے کے بجائے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو خطے میں استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے میں مدد دیں۔

عالمی قوانین اور خودمختاری کا معاملہ

سعودی عرب نے ایران کی کارروائیوں کو عالمی قوانین اور اصولِ حسنِ ہمسائیگی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ پہلے بھی اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ خودمختار ریاستوں کی علاقائی سالمیت اور فضائی حدود کا احترام کیا جانا چاہیے۔

جون 2026 میں بھی سعودی عرب نے اردن، بحرین اور کویت کے خلاف ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی کارروائیاں علاقائی اور عالمی سلامتی کو متاثر کرتی ہیں۔ اس وقت ریاض نے متعلقہ ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے پر زور

سعودی عرب مسلسل خطے میں فوجی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستے اختیار کرنے کی حمایت کرتا رہا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے حالیہ رابطوں میں بھی خطے کی صورتحال، امن و استحکام اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

تازہ بیان میں سعودی عرب کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ ایران کی جانب سے اردن سمیت خطے کے ممالک پر حملے بند ہونے چاہئیں اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔

موجودہ صورتحال میں سعودی عرب کی جانب سے اردن کی حمایت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاض خطے کے ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کو ایک اہم علاقائی ترجیح سمجھتا ہے۔ دوسری جانب مسلسل حملوں اور جوابی اقدامات سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات موجود ہیں۔

سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے فوجی تصادم کے بجائے کشیدگی میں کمی، ریاستوں کی خودمختاری کا احترام اور مؤثر سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔ ریاض کی جانب سے فوری حملے روکنے کا مطالبہ اسی وسیع تر علاقائی امن پالیسی کا حصہ ہے۔

نوٹ: سعودی عرب کے بیان میں ایرانی حملوں کی مذمت اور اردن سے اظہارِ یکجہتی سعودی حکومت کا سرکاری مؤقف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں