9 لاکھ سے زائد بھارتی فوج کشمیری عوام پر مظالم ڈھا رہی ہے، عاصم افتخار
یوتھ ویژن نیوز:(نیویارک)- اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے عالمی امن و سلامتی کو دہشتگردی سے لاحق خطرات پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور افغان سرزمین سے دہشتگردی کے خدشات پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف عالمی ردعمل جامع اور غیر امتیازی ہونا چاہیے اور اس میں دہشتگردی کی تمام شکلوں کا مؤثر تدارک شامل ہونا ضروری ہے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ غیر ملکی قبضے اور جبر کے تناظر میں سامنے آنے والی ریاستی دہشتگردی کے معاملے کو بھی عالمی انسداد دہشتگردی کی کوششوں میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے جامع، مربوط اور دوہرے معیار سے پاک عالمی تعاون کا حامی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں جبر کی نئی لہر، عاصم افتخار
پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے حقِ خودارادیت سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔
عاصم افتخار کے مطابق 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد کشمیری عوام کو جبر کی ایک نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ سے زائد بھارتی فوج کی موجودگی اور کشمیری عوام کے خلاف کارروائیاں ریاستی دہشتگردی کی بدترین مثال ہیں۔
اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں بھی پاکستان کی جانب سے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو غیر قانونی اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کشمیر کے معاملے کو سلامتی کونسل کے سامنے اٹھانے کی دستاویزات موجود ہیں۔ تاہم مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور فوجیوں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار مختلف ذرائع میں مختلف انداز سے پیش کیے جاتے ہیں، اس لیے ان اعداد کو پاکستان کے سرکاری مؤقف کے طور پر بیان کرنا زیادہ مناسب ہے۔
دہشتگردی کے خلاف دوہرے معیار سے گریز ضروری
پاکستانی مندوب نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو دوہرے معیار سے بالاتر ہو کر جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ان کے مطابق انسداد دہشتگردی کے اقدامات کو غیر ملکی قبضے کے خلاف جائز سیاسی اور عوامی جدوجہد کے تناظر میں غلط طریقے سے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ دہشتگردی کسی سرحد، مذہب یا قوم تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ اس لیے عالمی سطح پر دہشتگرد گروہوں کے خلاف مربوط اقدامات، ان کی مالی معاونت روکنے اور انہیں اسلحہ و دیگر وسائل تک رسائی سے محروم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو
عاصم افتخار احمد نے افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشتگردی کے خطرے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
پاکستانی مندوب اس سے قبل بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ جون 2026 میں انہوں نے افغان حکام سے دہشتگرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
فروری 2026 میں سلامتی کونسل سے خطاب کے دوران بھی پاکستان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ افغان سرزمین کو کسی ملک کو دھمکانے یا اس کے خلاف حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسی اجلاس میں سلامتی کونسل نے طالبان پابندیوں سے متعلق مانیٹرنگ ٹیم کے مینڈیٹ میں مزید 12 ماہ کی توسیع بھی کی تھی۔
دہشتگرد گروہوں کی مالی معاونت روکنے پر زور
عاصم افتخار نے کہا کہ دہشتگرد گروہوں کو اسلحے اور مالی وسائل تک رسائی سے روکنا عالمی انسداد دہشتگردی کی کوششوں کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے صرف سکیورٹی اقدامات کافی نہیں بلکہ دہشتگرد گروہوں کی مالی معاونت، سہولت کاری اور وسائل تک رسائی روکنے کے لیے بھی مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے پابندیوں کے نظام اور انسداد دہشتگردی کے عالمی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے تمام دہشتگرد گروہوں کو متعلقہ عالمی فہرستوں میں شامل کیا جانا چاہیے جو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
پاکستان کی عالمی تعاون کے عزم کی تجدید
پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون، مؤثر معلومات کے تبادلے اور دہشتگرد گروہوں کے مالی و دیگر وسائل کے خاتمے پر توجہ دینا ضروری ہے۔
عاصم افتخار کا اقوام متحدہ میں خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان عالمی فورمز پر ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا معاملہ اٹھا رہا ہے اور دوسری جانب افغان سرزمین سے پاکستان سمیت خطے کو لاحق دہشتگردی کے خطرات پر عالمی توجہ مبذول کرا رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے لیے دہشتگردی کے خلاف جامع اور غیر امتیازی عالمی حکمت عملی ضروری ہے۔