اسحاق ڈار کی شاہ عبداللہ سے ملاقات، فلسطین اور مشرق وسطیٰ پر اہم تبادلہ خیال
یوتھ ویژن نیوز: (اسلام آباد) — نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس کے موقع پر اردن کے شاہ عبداللہ دوم ابن الحسین سے ملاقات کی، جس میں فلسطین، یروشلم، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں پاکستان کی جانب سے فلسطینی عوام کے لیے حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے ملاقات کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستانی عوام کی جانب سے عبداللہ دوم کو نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔
اسحاق ڈار کی شاہ عبداللہ سے اہم ملاقات
یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کے دوران ہونے والی ملاقات میں دونوں جانب سے خطے کی موجودہ صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں ہونے والی اہم پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اردن کی جانب سے یروشلم میں مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کی نگرانی اور تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے علاقائی امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے اردن کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔
پاکستان اور اردن کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں، جبکہ دونوں ممالک مختلف علاقائی اور عالمی امور پر باہمی تعاون بھی کرتے رہے ہیں۔ یروشلم اور فلسطین کا معاملہ دونوں ممالک کے لیے اہم سفارتی موضوعات میں شامل ہے۔
فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ
اسحاق ڈار نے ملاقات کے دوران فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ، پائیدار اور قابل عمل حل کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق فلسطین کے مسئلے کا حل بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ اسلام آباد طویل عرصے سے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ان کے جائز حقوق کی حمایت کرتا آیا ہے۔
نائب وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے ایسا حل ضروری ہے جو متعلقہ فریقین کے جائز حقوق اور بین الاقوامی اصولوں کو مدنظر رکھے۔
یروشلم کے مقدس مقامات کا معاملہ
ملاقات میں یروشلم کے مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کی حیثیت اور ان کے تحفظ سے متعلق امور بھی اہم رہے۔ پاکستان نے اردن کی جانب سے ان مقدس مقامات کی نگرانی کے کردار کو سراہا۔
یروشلم دنیا بھر کے مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں کے لیے مذہبی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ شہر کی حیثیت اور مقدس مقامات کا معاملہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے اہم ترین پہلوؤں میں شمار ہوتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ مقدس مقامات کے تقدس اور مذہبی آزادی کا احترام کیا جانا چاہیے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی پاسداری ضروری ہے۔
مشرق وسطیٰ میں علاقائی امن پر گفتگو
اسحاق ڈار اور شاہ عبداللہ کے درمیان ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں ہونے والی تازہ علاقائی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر بات چیت کی۔
پاکستان اور اردن دونوں علاقائی سطح پر کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اس تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے علاقائی صورتحال پر مشاورت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھے گا اور فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔
پاکستان کا سفارتی مؤقف واضح
اس ملاقات سے ایک بار پھر پاکستان کا فلسطین کے حوالے سے سفارتی مؤقف واضح ہوا ہے۔ اسلام آباد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر مسئلے کے حل پر زور دیتا ہے۔
یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت اور اردن کے شاہ عبداللہ سے ملاقات کو پاکستان کی جانب سے فلسطین اور مشرق وسطیٰ کے معاملات پر جاری سفارتی رابطوں کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف ایسے سیاسی اور سفارتی حل کے ذریعے ممکن ہے جو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور فریقین کے جائز حقوق کو مدنظر رکھے۔ اسحاق ڈار کی شاہ عبداللہ سے ملاقات میں بھی انہی بنیادی اصولوں کے تحت فلسطین، یروشلم اور علاقائی استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔