بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر انتخابات پر دھاندلی کا الزام، ن لیگ پر سخت تنقید

بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر انتخابات پر ویڈیو پیغام دیتے ہوئے

بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر انتخابات پر دھاندلی کا الزام، ن لیگ کی اُلٹی گنتی شروع ہونے کا دعویٰ

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ انتخابات صاف اور شفاف نہیں تھے بلکہ ان میں دھاندلی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر حالات کے باوجود عوام نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کو 9 انتخابی نشستوں پر کامیاب کرایا۔

ضلع باغ میں جلسے کے اعلان کے موقع پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ جلد عوام کے درمیان موجود ہوں گے اور انتخابی نتائج سے متعلق اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام ہونا چاہیے اور انتخابی عمل شفاف ہونا ضروری ہے۔

ن لیگ پر سیاسی تنقید

بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے سیاسی مخالفین کے لیے واضح پیغام ہے کہ "آپ کی اُلٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔” انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابات میں بے ضابطگیاں ہوئیں، تاہم اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ میرپور اور مظفرآباد کی بعض نشستیں پیپلز پارٹی سے "چھینی گئیں” اور کہا کہ پارٹی ان نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی راستہ اختیار کرے گی۔ بلاول بھٹو نے اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کبھی ہمت نہیں ہارتی، نہ میدان چھوڑتی ہے اور نہ ہی عوام کے حقوق کی جدوجہد سے پیچھے ہٹتی ہے۔

شرجیل میمن کا مؤقف

اس سے قبل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی آزاد کشمیر انتخابات پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا طریقہ کار آزاد کشمیر میں بھی دہرایا گیا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں قائم حکومت پر ان کی جماعت پہلے بھی انتخابی شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھاتی رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کو انتخابی نقصان پہنچانے کے لیے سیاسی اتحاد قائم کیا گیا۔

سرکاری مؤقف

آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ الزامات سامنے آئے ہیں، تاہم خبر لکھے جانے تک الیکشن کمیشن یا مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ان مخصوص الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابی نتائج کے بعد مختلف جماعتوں کی جانب سے اعتراضات اور قانونی کارروائیاں جمہوری عمل کا حصہ ہوتی ہیں، جبکہ حتمی فیصلے متعلقہ آئینی اور قانونی ادارے کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں