گھریلو اور کمرشل ایل پی جی سلنڈر مہنگے، اوگرا کا نوٹیفکیشن جاری

اوگرا نے اگست 2026 کے لیے ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا

یوتھ ویژن نیوز :(اسلام آباد)- اوگرا نے اگست 2026 کے لیے ایل پی جی مہنگی کر دی، گھریلو اور کمرشل سلنڈرز کی نئی قیمتیں جاری

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اگست 2026 کے لیے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے ایل پی جی مہنگی کر دی ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اگست 2026 سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔

ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں اضافہ

اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں 13 روپے فی کلوگرام اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 254 روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل ایل پی جی 241 روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کی جا رہی تھی۔

قیمتوں میں اس اضافے کے باعث گھریلو اور کمرشل دونوں شعبوں کے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔

گھریلو ایل پی جی سلنڈر بھی مہنگا

نئی قیمتوں کے مطابق گھریلو استعمال کے لیے 11.8 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 152 روپے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 3 ہزار ایک روپے مقرر کی گئی ہے۔ گزشتہ ماہ یہی سلنڈر 2 ہزار 849 روپے میں دستیاب تھا۔

ماہرین کے مطابق گھریلو صارفین، خصوصاً وہ خاندان جو کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں، قیمتوں میں اس اضافے سے براہِ راست متاثر ہوں گے۔

کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 585 روپے اضافہ

اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 585 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمت 11 ہزار 546 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہی سلنڈر 10 ہزار 961 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایل پی جی مہنگی ہونے سے ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، بیکریوں اور دیگر کاروباروں کے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات اشیائے خور و نوش کی قیمتوں پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔

اوگرا کا نوٹیفکیشن

اوگرا کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اگست 2026 سے کیا گیا ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ، درآمدی لاگت اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

ادھر توانائی کے شعبے پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر گھریلو اخراجات، صنعتی سرگرمیوں اور مجموعی مہنگائی کی شرح پر بھی پڑ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں