82 ہزار درخواستوں میں سے 6 ہزار طلبہ اے آئی پروگرام کے لیے منتخب، شزہ فاطمہ خواجہ نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سراہا
یوتھ ویژن نیوز : (نمائدہ خصؤصی برائے ٹیک انفارمیشن عفان گوہر سے) 82 ہزار درخواستوں میں سے 6 ہزار طلبہ اے آئی پروگرام کے لیے منتخب، 600 نمایاں طلبہ کو خصوصی وظائف ملیں گے
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے تحت منعقد ہونے والے پاکستان کے سب سے بڑے مصنوعی ذہانت (AI) تربیتی پروگرام "ایکٹ اے آئی (ACT AI)” کی گریجویشن تقریب میں شرکت کی، جہاں نوجوانوں کی جدید ٹیکنالوجی میں مہارت کو سراہا گیا۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ملک بھر سے 82 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 100 جامعات کے 6 ہزار طلبہ کو مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر منتخب کیا گیا۔
وزیراعظم کے اے آئی وژن 2030 کی جانب اہم پیش رفت
حکام کے مطابق یہ پروگرام نیشنل اے آئی پالیسی 2025 اور وزیراعظم کے اس وژن کا حصہ ہے، جس کے تحت 2030 تک 10 لاکھ طلبہ کو مصنوعی ذہانت کی تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دیا جا سکے۔
طلبہ کے جدید اے آئی منصوبوں کی نمائش
وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے تقریب کے دوران مختلف جامعات کے طلبہ کی تیار کردہ AI Applications، Websites اور AI Agents کا تفصیلی جائزہ لیا اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں، اختراعی سوچ اور تکنیکی مہارت کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان عالمی معیار کی ٹیکنالوجی میں نمایاں صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
نوجوانوں کو مستقبل کے لیے تیار کیا جا رہا ہے
اپنے خطاب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی مہارتیں نوجوانوں کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ کریں گی اور وہ اپنی صلاحیتوں کو ملک کی معاشی، سائنسی اور تکنیکی ترقی کے لیے بروئے کار لا سکیں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزارتِ آئی ٹی نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور عالمی معیار کی تربیت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
600 طلبہ کو خصوصی وظائف
تقریب کے دوران بتایا گیا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام، نیوٹیک (NAVTTC)، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور AI Skill Bridge کے اشتراک سے منعقد ہونے والے اس پروگرام میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے 600 طلبہ کو مصنوعی ذہانت کی اعلیٰ تربیت کے لیے خصوصی وظائف بھی فراہم کیے جائیں گے۔
یہ پروگرام پاکستان میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں ملکی ٹیکنالوجی، جدت اور ڈیجیٹل معیشت کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔