مقبوضہ کشمیر سے متعلق امریکی بیان پر پاکستان کا احتجاج، ناظم الامور کو ڈی مارش

کشمیر پر امریکی بیان کے خلاف پاکستان کا سفارتی احتجاج

یوتھ ویژن نیوز : (ثاقب ابراہیم سے)- پاکستان نے جموں و کشمیر کے دورے اور متنازع علاقے کی حیثیت سے متعلق امریکی بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں موجود امریکی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرکے باضابطہ طور پر ڈی مارش کردیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے امریکی حکام پر واضح کیا کہ امریکی سفیر کا مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ اور اس حوالے سے سامنے آنے والا بیان پاکستان کے لیے قابلِ تشویش ہے۔

امریکی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرلیا گیا

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہیں امریکی بیان کے حوالے سے پاکستان کے شدید تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ڈی مارش کے ذریعے پاکستان نے اپنے مؤقف کو باضابطہ طور پر امریکی حکومت تک پہنچایا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کا معاملہ ایک دیرینہ تنازع ہے اور اس حوالے سے کسی بھی ملک کے سرکاری نمائندے کی جانب سے دیا جانے والا بیان انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اسلام آباد نے امریکی حکام پر زور دیا کہ کشمیر سے متعلق بیانات دیتے ہوئے تنازع کی متنازع حیثیت اور اس سے متعلق بین الاقوامی مؤقف کو مدنظر رکھا جائے۔

امریکی سفیر کا دورہ اور بیان پاکستان کے لیے باعث تشویش

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت میں امریکی سفیر کا مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ اور اس حوالے سے دیا گیا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے۔ پاکستان کے مطابق امریکی سفیر کا بیان جموں و کشمیر تنازع پر امریکہ کے دیرینہ اور واضح مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔

کشمیر پر امریکی بیان کے خلاف پاکستان کا سفارتی احتجاج

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے امریکی حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ واشنگٹن کے عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کے مطابق ہونے چاہئیں۔

پاکستان طویل عرصے سے جموں و کشمیر کے معاملے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ تنازع کے حل کے لیے کشمیری عوام کی خواہشات اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

پاکستان نے بین الاقوامی قانون کا حوالہ دے دیا

دفتر خارجہ کے مطابق امریکی سفیر کا بیان بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور اقوام متحدہ کے منشور سے متعلق امریکہ کے عزم کے بھی منافی ہے۔ پاکستان نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ اس معاملے پر اس کے سرکاری اور عوامی بیانات میں مستقل مزاجی برقرار رہنی چاہیے۔

پاکستان کی جانب سے امریکی ناظم الامور کو طلب کرکے ڈی مارش کیے جانے کو سفارتی سطح پر ایک باضابطہ احتجاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے اسلام آباد نے کشمیر کے معاملے پر اپنے حساس مؤقف کو واشنگٹن کے سامنے واضح کیا ہے۔

پاکستان نے ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش بھی یاد دلادی

دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے ’’معرکۂ حق‘‘ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کو سراہا تھا۔

پاکستان کے مطابق خطے میں دیرپا امن کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کا پرامن حل ضروری ہے۔ اسلام آباد ماضی میں بھی مختلف مواقع پر یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام باہمی تنازعات کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔

کشمیر تنازع پر پاکستان کا مؤقف

جموں و کشمیر کا تنازع پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازعات میں شامل ہے۔ دونوں ممالک اس معاملے پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں جبکہ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب موجود کشمیری عوام اور خطے کی صورتحال عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز رہی ہے۔

پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے کہ کشمیر کے معاملے کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے متعلقہ فریم ورک اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ اسی تناظر میں اسلام آباد عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری سے مسئلے کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

پاک امریکہ تعلقات میں کشمیر کا معاملہ

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان علاقائی سلامتی، معیشت، تجارت، انسداد دہشت گردی اور دیگر معاملات پر رابطہ جاری رہتا ہے۔ تاہم کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم موضوع ہے اور اس حوالے سے کسی بھی بڑے ملک کا بیان اسلام آباد میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

حالیہ پیش رفت میں پاکستان نے واضح کیا ہے کہ کشمیر سے متعلق امریکی بیانات کو اس کے سابقہ مؤقف اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں ہونا چاہیے۔ امریکی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرکے ڈی مارش کیے جانے کا مقصد بھی پاکستان کے اسی سفارتی مؤقف کو باضابطہ انداز میں اجاگر کرنا ہے۔

پاکستان کا پرامن حل پر زور

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کرنا ضروری ہے۔ اسلام آباد کے مطابق جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے اور دیرپا امن قائم کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو سفارتی ذرائع، مذاکرات اور بین الاقوامی اصولوں کو ترجیح دینی چاہیے۔

موجودہ سفارتی پیش رفت کے بعد اب امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کے احتجاج اور ڈی مارش پر ردعمل بھی اہم ہوگا۔ تاہم پاکستان نے اپنے اقدام کے ذریعے یہ واضح کردیا ہے کہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت سے متعلق کسی بھی ایسے بیان پر وہ سفارتی سطح پر اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرتا رہے گا۔

مجموعی طور پر کشمیر پر امریکی بیان کے معاملے میں پاکستان نے واشنگٹن کے سامنے اپنے شدید تحفظات باضابطہ طور پر رکھ دیے ہیں۔ امریکی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرکے ڈی مارش کرنا اسلام آباد کی جانب سے ایک واضح سفارتی ردعمل ہے، جبکہ دفتر خارجہ نے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور کشمیر کے متنازع معاملے سے متعلق پاکستان کے دیرینہ مؤقف پر بھی زور دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں