یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی: 1300 سے زائد اموات، 15 کروڑ افراد متاثر

europe-heatwave-2026-1300-deaths-150-million-affected

یوتھ ویژن نیوز : (علی رضا سے) – یورپ کے مختلف ممالک میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر برقرار ہے، جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے سے معمولات زندگی شدید متاثر ہو گئے ہیں۔ شدید ہیٹ ویو کے باعث یورپ بھر میں اب تک تقریباً 1300 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسپتال گرمی سے متاثرہ مریضوں سے بھر گئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق تقریباً 15 کروڑ یورپی شہری شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور گرمی سے متعلق دیگر بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

فرانس، اسپین اور پولینڈ میں گرمی کے تباہ کن اثرات

فرانس میں گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں اکثر بزرگ شہری شامل ہیں۔ فرانسیسی حکام نے شہریوں کو دوپہر کے اوقات میں گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے اور عوامی مقامات پر پانی کی مفت فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔

اسپین میں ہیٹ ویو کے باعث 327 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ ملک کے جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت 44 ڈگری تک پہنچ گیا ہے جبکہ دارالحکومت میڈرڈ میں گرمی کی شدت نے شہریوں کو گھروں تک محدود کر دیا ہے۔ پولینڈ میں گرمی نے ایک صدی پرانا درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑ دیا ہے، جہاں درجہ حرارت 39 ڈگری سے تجاوز کر گیا۔ سربیا میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

جنگلات میں آگ اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان

البانیہ میں جنگلات میں آگ بھڑکنے سے جھاڑیوں اور زیتون کے باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں تاہم تیز ہواؤں اور خشک موسم کی وجہ سے آگ پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے۔

اطالیہ کے جزیرے سسلی اور سردینیا میں بھی درجہ حرارت 45 ڈگری تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ کروشیا میں گرمی کی وجہ سے بجلی کی کھپت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے اور توانائی کے نظام پر شدید دباؤ ہے۔

موسمیاتی تبدیلی گرمی کی شدت میں اضافے کا سبب

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے ہیٹ ویو کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گرمی سے بچاؤ کے لیے قومی ایکشن پلانز کو فوری طور پر نافذ کریں۔

تحقیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے یورپ میں ہیٹ ویو کی شدت اور تعدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی نہ لائی گئی تو آنے والے سالوں میں اس قسم کے واقعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر

حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ:

دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان گھر سے باہر نہ نکلیں

کافی مقدار میں پانی پیئیں اور کیفین والے مشروبات سے گریز کریں

ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہنیں

بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھیں

کسی بھی طبی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ہسپتال سے رابطہ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں