ویانا میں پاکستانی سفارت خانے اور مستقل مشن کی سی ای یو کے طلباء کو خارجہ پالیسی ترجیحات پر آگاہی

ویانا میں پاکستانی سفارت خانے اور مستقل مشن کی سی ای یو کے طلباء کو خارجہ پالیسی ترجیحات پر آگاہی

یوتھ ویژن نیوز : (زاہد غنی چوہان سے) – ویانا میں پاکستان کے سفارت خانے اور مستقل مشن نے پیر 18 مئی کو سینٹرل یورپین یونیورسٹی (سی ای یو) انٹرنیشنل پارٹنرشپس کلب کے طلباء کے ایک گروپ کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر دو طرفہ اور کثیرالجہتی شعبوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات پر دلچسپ گفتگو کی گئی۔

پاکستان کے سفیر محمد کامران اختر نے طلباء کو پاکستان اور آسٹریا کے باہمی تعلقات کے بارے میں تفصیلی آگاہی دی۔ انہوں نے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ترجیحات اور ویانا میں قائم کثیرالجہتی اداروں میں پاکستان کے تعمیری کردار پر روشنی ڈالی۔

کثیرالجہتی اداروں میں پاکستان کا کردار

سفیر محمد کامران اختر نے ویانا میں قائم اہم کثیرالجہتی اداروں میں پاکستان کے تعمیری کردار کو اجاگر کیا۔ ان اداروں میں شامل ہیں:

  • آئی اے ای اے (بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی)
  • یو این او ایس اے (اقوام متحدہ دفتر برائے بیرونی خلائی امور)
  • یو این او ڈی سی (اقوام متحدہ دفتر برائے منشیات و جرائم)
  • یو این آئی ڈی او (اقوام متحدہ ادارہ برائے صنعتی ترقی)

سفیر نے بتایا کہ پاکستان ان فورمز میں فعال طور پر شریک ہوتا ہے اور عالمی امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔

پاکستان اور آسٹریا کے دو طرفہ تعلقات

سفیر نے طلباء کو پاکستان اور آسٹریا کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، ثقافت، تعلیم اور سفارتکاری کے شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یورپی ممالک خاص طور پر آسٹریا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

طلباء کا ردعمل اور سوالات

تقریب میں بین الاقوامی طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس بریفنگ کو طلباء نے بہت سراہا اور کہا کہ وہ اس نئے پروگرام میں شرکت کر کے بہت خوش ہیں، جس سے ان کے علم میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایسے پروگرام بہت ضروری ہیں۔

اس موقع پر اسکرین پر بریفنگ بھی پیش کی گئی۔ طلباء نے سفیر پاکستان سے مختلف سوالات کیے، جن کے انہوں نے تفصیلی جوابات دیے۔ سوالات میں پاکستان کی خارجہ پالیسی، علاقائی چیلنجز، اور اقتصادی ترقی جیسے موضوعات شامل تھے۔

سفارتی اور تعلیمی روابط کی اہمیت

اس تقریب کو سفارتی اور تعلیمی روابط کو فروغ دینے کی ایک کامیاب کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ سی ای یو کے طلباء کو پاکستان کے سفارتی مشن میں مدعو کر کے نہ صرف پاکستان کے بارے میں مثبت پیغام دیا گیا بلکہ مستقبل میں تعلیمی اور ثقافتی تبادلوں کی راہ بھی ہموار کی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے پروگرام نرم طاقت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور پاکستان کے بین الاقوامی امیج کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں