چین نے تائیوان کو عالمی ادارۂ صحت کی سالانہ اسمبلی میں شرکت سے روک دیا
یوتھ ویژن نیوز : ( یبیجنگ ) – چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ تائیوان کو عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی آئندہ سالانہ اسمبلی میں شرکت کی اجازت نہیں دے گا۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ عوامی جمہوریہ چین ہی پورے چین کی واحد قانونی نمائندہ حکومت ہے، اس لیے "ون چائنا” اصول کے تحت تائیوان کی عالمی ادارۂ صحت کی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی (ڈبلیو ایچ اے) میں شرکت منظور نہیں کی جائے گی۔
چین کا یہ مؤقف ایک مرتبہ پھر اس کی طرف سے تائیوان کو اپنا صوبہ قرار دینے کی پالیسی کا تسلسل ہے۔
تائیوان کی شرکت پر پابندی کی وجہ
چینی وزارت خارجہ کے مطابق، تائیوان چین کا لازمی حصہ ہے اور اسے کوئی خود مختار حیثیت حاصل نہیں ہے۔ "ون چائنا” اصول کے تحت صرف عوامی جمہوریہ چین کو ہی بین الاقوامی تنظیموں میں چین کی نمائندگی کرنے کا حق حاصل ہے۔
چینی ترجمان نے کہا کہ تائیوان کی ڈبلیو ایچ اے میں شرکت سے چینی سرزمین کی سالمیت متاثر ہوتی ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
تاریخی پس منظر
تائیوان 2009 سے 2016 تک بطور مبصر (Observer) ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں شریک ہوتا رہا۔ تاہم 2017 میں چین نے اس کی شرکت روک دی تھی۔ اس کے بعد سے تائیوان کو ڈبلیو ایچ اے کے اجلاسوں میں مدعو نہیں کیا گیا۔
تائیوان کو عالمی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے براہِ راست معلومات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس پر تائیوانی حکام نے بارہا احتجاج کیا ہے۔
عالمی ردعمل
چین کے اس فیصلے پر امریکہ اور چند مغربی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت کے عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے تائیوان کو بھی معلومات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔
تاہم چین نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے اس موقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کوئی بھی ملک "ون چائنا” اصول کو چیلنج نہیں کر سکتا۔
تائیوانی حکومت کا ردعمل
تائیوانی وزارت خارجہ نے چین کے اس فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی صحت کے تعاون کے خلاف ہے۔ تائیوان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ چین کے اس "غیر منصفانہ” رویے کے خلاف آواز اٹھائے۔
تائیوان کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ صحت کے عالمی چیلنجز میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن چین انہیں ہر موقع پر روک رہا ہے۔
مستقبل کی راہ
ماہرین کے مطابق جب تک چین "ون چائنا” اصول پر قائم ہے، تائیوان کی ڈبلیو ایچ اے میں شرکت ممکن نہیں۔ البتہ عالمی ادارۂ صحت ممکنہ طور پر تائیوان کو کسی اور شکل میں معلومات فراہم کرنے کا کوئی راستہ تلاش کر سکتا ہے۔
یہ تنازع آنے والے سالوں میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔