خلیجی رہنماؤں کا اہم فیصلہ، ایران کی بندش کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا

خلیجی رہنماؤں کا اہم اجلاس کی نمایاں تصویر

جدہ میں جی سی سی کے مشاورتی اجلاس میں خلیجی رہنماؤں نے آبنائے ہرمز پر فیس لینے کی تجویز مسترد کر دی۔ ایران کی بندش کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے مشترکہ پائپ لائن اور ابتدائی انتباہی نظام بنانے کا فیصلہ کیا گیا

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) سعودی عرب کے شہر جدہ میں خلیج تعاون کونسل (GCC) کے رہنماؤں کا ایک اہم مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں آبنائے ہرمز پر آنے جانے والے جہازوں سے کسی بھی قسم کی فیس وصول کرنے کی تجویز کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔

خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جسیم محمد البداوی نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ تمام رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے ایک آزاد اور محفوظ راستہ ہے، اور اسے کسی بھی صورت میں بند نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ خلیجی leaders نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’غیرقانونی‘ قرار دے دیا ہے۔ اجلاس میں شریک رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی تجارتی یا فوجی جہاز پر فیس عائد کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔

آبنائے ہرمز: دنیا کی سب سے اہم آبی شاہراہ

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے درمیان ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے، جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ شروع ہونے سے پہلے روزانہ تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی سپلائی اس راستے سے گزرتی تھی۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا اور کئی ممالک میں توانائی کی قلت کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

خلیجی ممالک کے اہم فیصلے

سیکریٹری جنرل البداوی نے مزید بتایا کہ جدہ اجلاس میں خلیجی رہنماؤں نے دو اہم فیصلے بھی کیے:

پہلا: مشترکہ تیل اور گیس پائپ لائن کی تعمیر کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ کسی بھی بحران میں خلیجی ممالک کی توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔

دوسرا: بیلسٹک میزائلوں کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ ابتدائی انتباہی نظام (Early Warning System) قائم کیا جائے۔ اس نظام کے ذریعے خلیجی ممالک کو کسی بھی میزائل حملے سے قبل بروقت آگاہی مل سکے گی۔

موجودہ صورتحال: جنگ بندی لیکن یقین دہانیاں نہیں

اگرچہ پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہو گئی تھی، اور ٹرمپ نے اسے لامحدود مدت کے لیے بڑھا دیا ہے، لیکن آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، وہ آبنائے کو مکمل طور پر نہیں کھولیں گے۔

دوسری طرف امریکہ کا کہنا ہے کہ جب تک ایران جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع نہیں کرتا، ناکہ بندی ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ماہرین کے مطابق خلیج تعاون کونسل کا یہ فیصلہ ایران کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ خلیجی ممالک آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کی ایرانی اجارہ داری کو قبول نہیں کریں گے۔ آنے والے دنوں میں دیکھنا ہوگا کہ ایران اس فیصلے پر کیا ردعمل دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں