ایران کی طرف سے جنگ کے خاتمے کی تجاویز کے بعد ٹرمپ کا دعویٰ: ’ایرانی چاہتے ہیں ہم آبنائے ہرمز جلد از جلد کھول دیں

ایران تباہی کی حالت میں ہے اور چاہتا ہے کہ ہم آبنائے ہرمز جلد کھول دیں،ٹرمپ بتاتے ہوئے

مریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران تباہی کی حالت میں ہے اور اس نے آبنائے ہرمز فوری کھولنے کی درخواست کی ہے۔

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایک چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ ایران خود کو ’تباہی کی حالت‘ میں قرار دیتے ہوئے امریکہ سے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کی درخواست کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’ایران نے ابھی ہمیں مطلع کیا ہے کہ وہ تباہی کی حالت میں ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھول دیں، کیونکہ وہ اپنی قیادت کی صورت حال کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں (جو مجھے یقین ہے کہ وہ کر سکیں گے!)۔‘

یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے امریکہ کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن پہنچائی گئی ہے۔ ایرانی تجویز کے مطابق پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو کھولا جائے، امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے اور جنگ بندی کو مستقل شکل دی جائے، جبکہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کو بعد کے مراحل تک ملتوی کر دیا جائے۔

امریکی ردعمل: ٹرمپ مطمئن نہیں

وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق ٹرمپ اس ایرانی تجویز سے مطمئن نہیں ہیں، کیونکہ اس میں ایران کے جوہری پروگرام کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ کسی بھی معاہدے میں جوہری مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ جو ایران کے جوہری پروگرام کو نظر انداز کرتا ہے، ناقابل قبول ہے۔ روبیو کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ایران ایک ’معاشی ایٹمی ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ نے پیر کو قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں اس تجویز پر تفصیلی مشاورت کی، لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ایران پر شدید معاشی دباؤ

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کو اپنے تیل کے ذخیرے کے لیے جگہ کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ایران کے پاس صرف 12 سے 22 دن کی خالی ذخیرہ گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ایران کو جلد ہی یومیہ تقریباً 15 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار میں مزید کمی کرنا پڑ سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ایران روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے۔

عالمی ردعمل اور پاکستان کا کردار

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری تجارت کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خلیجی ممالک کا ایک سربراہی اجلاس بھی جدہ میں منعقد ہو رہا ہے جس میں خطے کی تازہ ترین صورت حال پر غور کیا جا رہا ہے.

قطر نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خلیج میں ایک منجمد تنازعہ پیدا ہو سکتا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ قطر پاکستان کی مکمل حمایت کرے گا۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی ہوئی تھی، جسے ٹرمپ نے لامحدود مدت کے لیے بڑھا دیا ہے۔

تاہم اب تک جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگلے چند دن اس حوالے سے اہم ہوں گے کہ آیا دونوں فریقین باہمی اختلافات کو ختم کر پاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں