ایران جنگ نے امریکہ کے ‘بادل چوری’ کے جھوٹے دعووں کو کیسے بے نقاب کیا؟
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر ‘بادل چوری’ کے جھوٹے دعوے وائرل ہو رہے ہیں۔ جانیں اس سازش کی حقیقت اور موسمیاتی تبدیلی کا اصل کردار
یوتھ ویژن : (ویب ڈسک) مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے درمیان سوشل میڈیا پر ایک عجیب سازش کا نظریہ زور پکڑ رہا ہے۔ اس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل مبینہ طور پر خطے کے بادلوں کو ‘چرا’ کر بارشوں کو روک رہے تھے۔
لیکن ایران کے ساتھ جنگ میں مصروف ہونے کی وجہ سے یہ کارروائیاں رک گئیں اور چنانچہ عراق اور ترکی میں ریکارڈ بارشیں ہونے لگیں۔ یہ دعوے کتنے سچے ہیں؟ کیا واقعی کوئی ملک دوسرے کی بارشیں چرا سکتا ہے؟ آئیے حقیقت جانتے ہیں۔
الزامات کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟
تقریباً ایک ہفتہ قبل عراقی پارلیمنٹ کے رکن عبداللہ الکھیکانی نے ‘الرشید ٹی وی’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الزام لگایا تھا کہ ترکی اور ایران نے امریکی طیاروں کے ذریعے بادلوں کو توڑنے اور چرانے کی کوششوں کے خلاف شکایات درج کرائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب عراق میں بارشیں لوٹ آئی ہیں کیونکہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں الجھا ہوا ہے۔ الکھیکانی نے اپنے اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ بی بی سی سے دوبارہ بات کرنے پر بھی انہوں نے وہی موقف دہرایا کہ عراق میں ‘جان بوجھ کر خشک سالی پیدا کرنے کے لیے موسمی ہتھیار’ استعمال کیے گئے تھے۔
سائنس کیا کہتی ہے؟
دنیا بھر کے سائنسدان اس قسم کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں۔ ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں جس سے ایک ملک دوسرے ملک کے بادل چرا سکے۔ عراق کے موسمیاتی ادارے کے ترجمان عامر الجابری کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ ‘نہ سائنسی ہے، نہ منطقی۔’ انہوں نے واضح کیا کہ گذشتہ سال ستمبر میں ہی پیشگوئی کر دی گئی تھی کہ 2026 میں عراق میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی – یہ پیشگوئی جنگ شروع ہونے سے کئی ماہ پہلے کی گئی تھی۔
کلاؤڈ سیڈنگ کیا ہے اور کیا یہ بادل چوری کر سکتی ہے؟
وہ عمل جسے لوگ ‘بادل چوری’ سے جوڑ رہے ہیں، اسے سائنسی زبان میں کلاؤڈ سیڈنگ کہتے ہیں۔ اس میں طیاروں یا ڈرونز کے ذریعے بادلوں پر سلور آئیوڈائیڈ جیسے کیمیائی ذرات چھڑکے جاتے ہیں تاکہ پانی کے قطرے بڑھ کر برس پڑیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق اس کے اثرات انتہائی محدود ہیں – موجود بادلوں سے زیادہ سے زیادہ 15 فیصد اضافی بارش ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ابوظبی کی خلیفہ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈیانا فرانسس کہتی ہیں: ‘یہ صرف ایک موجود بادل کو ہلکا سا دھکا دینا ہے، موسم کو کنٹرول کرنا نہیں۔’ وائیومنگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر جیف فرنچ کا کہنا ہے کہ بادلوں کی سیڈنگ کا پڑوسی علاقوں پر کوئی واضح منفی اثر ثابت نہیں ہوا۔
ترکی اور ایران میں بارشوں کی حقیقت
ترکی کی وزارت ماحولیات کے مطابق رواں سال فروری میں ہونے والی بارشوں نے 66 سال کا ریکارڈ توڑا۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ (جسے 10 لاکھ سے زیادہ بار دیکھا گیا) میں دعویٰ کیا گیا کہ ‘امریکہ جنگ کی وجہ سے ترکی کے بادل نہیں چرا سکا’ اس لیے بارشیں ہوئیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے، نہ کہ کوئی جنگ۔ اقوام متحدہ کے ادارۂ آبیات کے ڈائریکٹر کاوہ مدانی کہتے ہیں: ‘اس غلط فہمی کی جڑ موسمیاتی نظام کی سمجھ کا فقدان ہے۔’
موسمیاتی تبدیلی اصل مجرم ہے
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بارشوں کی غیر یقینی شدت اور خشک سالی کی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی ہے۔ فوسل فیول (تیل، گیس، کوئلہ) جلانے سے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق مشرق وسطیٰ میں گرمی کی شرح عالمی اوسط سے دو گنا زیادہ ہے۔ کبھی بارش بہت کم ہوتی ہے تو کبھی اتنی زیادہ کہ سیلاب آ جائے۔ یہی غیر یقینی صورتحال عوام میں بے چینی پیدا کرتی ہے، اور لوگ آسان وضاحت (جیسے ‘بادل چوری’) کی طرف بھاگتے ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر سارہ سمتھ کہتی ہیں: ‘پیچیدگی اور غیر یقینی اکثر سازشی سوچ کو جنم دیتی ہے۔ لوگ خالی جگہ کو ایک سادہ سی کہانی سے بھر دیتے ہیں، حالانکہ اصل کہانی کہیں اور ہوتی ہے۔’
نتیجہ: ایران جنگ اور بادلوں کے چرائے جانے کے درمیان کوئی سائنسی تعلق نہیں۔ یہ محض ایک سازشی نظریہ ہے، جسے سیاستدانوں اور سوشل میڈیا نے ہوا دی ہے۔ اصلی مسئلہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔