ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار، پاکستان ثالثی کردار میں برقرار
یوتھ ویژن نیوز : (نیوز ڈسک) ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہیں کرے گا اور اس وقت امریکی وفد کے پاکستان جانے کا بھی کوئی ارادہ نہیں، ان کے مطابق موجودہ حالات میں امریکا پر اعتماد ممکن نہیں اور مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کے لیے حالات سازگار نہیں۔
امریکا پر عدم اعتماد اور الزامات
ترجمان نے کہا کہ امریکا نے بارہا سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں، ایران کے مطابق امریکی اقدامات جارحانہ نوعیت کے ہیں جن میں بحری ناکہ بندی اور ایرانی جہازوں پر حملے شامل ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
پاکستان کا ثالثی کردار اور مذاکراتی کوششیں
ایران نے واضح کیا کہ امریکا ایران سفارتی عمل میں اس وقت پاکستان ہی واحد ثالث ہے، اور پاکستان میں پیش کی گئی 10 نکاتی تجویز پر پہلے بھی بات چیت ہو چکی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں ایران نے مذاکرات سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کا مؤقف
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا لیکن کسی بھی غیر ضروری دباؤ یا یکطرفہ مطالبات کو قبول نہیں کیا جائے گا، ان کے مطابق ایران نے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
پارلیمانی قیادت کا متوازن مؤقف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران ایک طرف سفارتی عمل جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری طرف ہر ممکن خطرے کے لیے بھی تیار ہے، ان کے مطابق خطے کی صورتحال غیر مستحکم ہے اور کسی بھی وقت کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مذاکرات یا تصادم: ایران کی دوہری حکمت عملی
ماہرین کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی “مذاکرات بھی، تیاری بھی” اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تہران سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے لیے بھی مکمل تیار ہے، اس صورتحال نے ایران امریکا کشیدگی کو ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔